Maulana Syed Shahabuddin Salfi FirdausiUrdu Articles 

جانے والے آتے نہیں جانے والوں کی یاد آتی ہے- آہ حضرت مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی

بروز پیر 2 اپریل 2018، جب رات کی تاریکی اپنے عروج پر تھی اچانک ایک روح فرساں حادثے کی خبر نےپورے وجود کو جھنجوڑ کرر رکھ دیا، حضرت مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی اس دار فانی سے دار اخروی کی طرف کوچ کر گۓ۔ آہ علوم و معارف کا خزینہ، فکر و شعور کا گنجینہ، اعلی اخلاق و کردار کے مالک، فقہی بصیرت، زہد و عبادت میں پیوست اور علم لدنی سے آراستہ شخصیت اپنے مالک حقیقی کے روبرو پہنچ چکی تھی۔ موت العالم موت العالم۔ انا للہ و ان الیہ راجعون! اس خبر نے جیسے مانو ذہنی قرطاس پر فلیش بیک کی لڑی دوڑا دی۔

صوبہ بہار کے میتھلانچل کہلانے والے علاقے کی راجدھانی دربھنگہ کے ایک مشہور و معروف قریہ “بابو سلیم پور” کے علمی خانوادہ سے تعلق رکھنے والے خالقِ سیرتِ بدرالدجیٰ علامہ سید شہاب الدین سلفی فردوسی 40 سال قبل جب شہر شولاپور تشریف لائے تو یہاں دین بیزاری و بدعقیدگی، جہالت و ضلالت، بدعات و خرافات کا دور دورہ تھا۔ کٹھ ملاؤں کا بے ساختہ دین، دین حنیف کی جگہ لے چکا تھا۔ مولانا نے آنے کے چند ہی دنوں بعد اس چیز کو محسوس کرتے ہوئے شہر کو بدعات و خرافات سے پاک کرنے کا عزم مصمم کیا اور اس کام کےلئے چند نوجوانوں کو تربیت دیکر ایک ایسی کھیپ تیار کی جو ساتھ مل کر دین بیزاری, بدعقیدگی، بدعات و خرافات کے طلسم کو شکست دے سکے۔ ان نوجوانوں کو دینی و ملی منجدھارےمیں بہہ جانے کی ایسی تربیت دی کہ صدیوں سے طاری جمود ہمیشہ ہمیش کےلئے ختم ہو گیا۔ انہوں نے اپنے ان تربیت یافتہ شاگردوں کے کو لے کر نہ صرف خوابیدہ مسلمانوں کو بیدار کیا بلکہ اس نئے معاشرے کی سیر بھی کرائی جس کی بنیاد صراط مستقیم پر ہے اوراس انقلاب سے یہاں کے نوجوانوں میں ملی و تحریکی شعور کو وہ آگہی اور جلا بخشی جس نے محض قلیل مدت میں جہالت و بدعقیدگی کے مستحکم قلعہ میں ایسی شگاف لگائی کہ دوبارہ ابھرنے کا موقع نہیں ملا۔ یہی وجہ ہے کہ شہر سولاپور سے ان کو بے پناہ محبت تھی۔ گرچہ آخری عمر میں جسمانی طور پر حضرت پونہ میں رہائش پذیر تھے لیکن دل ہمیشہ سولاپور میں ہی اٹکا رہتا تھا۔ میں نے بارہا مولانا کو کہتے سنا ہے کہ سولاپور تو اپنا شہر ہے۔

نمایاں کارنامے

ویسے تو مولانا نے اپنی زندگی میں کئی اہم کارہائے نمایاں انجام دیۓ لیکن ان میں دو سب سے اہم ہیں۔

 مسجدالسلام کی تعمیر۔

مولانا کی زمانہ طالب علمی سے ہی دلی خواہش تھی کہ وہ ایک ایسی مسجدتعمیر کروائںں جو مسلکی عصبیت سے پرے ہو اور جہاں بندگان خدااپنے رب کی عبادت کے لیۓ پورے طور سے آزاد ہو۔ اللہ رب العزت نے ان کی اس خواہش کو دوام بخشا اور سنہ 1987ء میں امبیڈکر نگر سولاپور میں مسجد السلام کے نام سے ایک مسجد کی بنیاد ڈالی جو دو منزل پرمشتمل ہے۔مسجد کے اوپری حصہ میں تحفیظ القران کے نام سے ایک مدرسہ بھی شروع کیا جہاں سے لوگ الحمدللہ طویل عرصے تک فیضیاب ہوتے رہے۔

 اطہر بلڈ بنک کا قیام۔

مولانا نے اپنی ساری زندگی انسانیت کی فلاح کیلیۓ مختص کردی تھی۔ اپنی طبابت سے لاکھوں لوگوں کو انھوں نے فیضیاب کیا۔ فسادات کے وقت اپنی جان پر کھیل کرلوگوں کی بلا تفریق مذہب ملت حفاظت اور بازآبادکاری، سید حامد حسین کے تعلیمی کاروان سے لے کر سوشل کالج کی تعمیر میں اہم رول تک مولانا کے اسی جزبہ انسانیت کی توثیق کرتے ہیں۔ مولانا نےاطہر بلڈبنک کا قیام “انسانیت کی خدمت”کے مقصد کے تحت کیا اور اطہر بلڈبنک ویکی پیڈیا پر اسی طرح کی بات ملتی ہے۔ ملاحظہ ہو

اطہر بلڈ بینک مہاراشٹرکے شہر سولاپور میں “اطہراقلیتی سماجی اور ویلفیئر ایسوسی ایشن” کے زیراہتمام قائم کردہ ادارہ ہے۔ بلڈ بینک کا افتتاح جناب سشیل کمار شندے (وزیر برائے توانائی ہندوستان) کے ہاتھوں 02 جون 2012ء کوہوا۔ اطہر بلڈ بینک کے بانی مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی نے “انسانیت کی خدمت” بلڈ بینک کے نعرہ طور پرمنتخب کیا۔ بینک کامیابی سے چل رہا ہے اور ریاست بھر میں خون کے عطیہ کیمپ کا انعقاد کرتا ہے اور انسانیت کی فلاح و بہبود میں مدد گارثابت ہو رہا ہے۔

مولانا کی شخصیت

مولانا کی ذات کن کن صفات کی مظہر تھی، عقل ودانش، علوم ومعارف اور فہم وادراک کے کیا کیا جوہر ان میں پنہاں تھے وہ ان کی فن سیرت نگاری پر نادر و نایاب تصنیف “سیرتِ بدرالدجیٰ” سے بخوبی جھلکتی ہے اور یہی ان کی شخصیت کے جامع اور عظیم ہونے کا ثبوت بھی دیتی ہے۔
مولانا ایک متبحر عالم اور علمِ کلام کے ماہر ہی نہ تھے بلکہ ملکی و سیاسی حالات کے مدوجزر پربھی ان کی ایسی گہری نظر تھی کہ ملک بھر سے بڑے بڑے سیاسی لیڈران اپنی سیاسی گتھیاں سلجھانے ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ بلاتفریق مذہب و ملت لوگوں کا ایک ہجوم ان کے ارد گرد ہوا کرتا تھا جو ان سے شرف ہمکلامی کو بھی اپنی خوش بختی سمجھتا تھا۔ مولانا کا جاہ و جلال کا عالم ایسا تھا کہ جس طرف نظر اٹھاتے لوگ اپنی نگاہیں نیچی کرلیتے۔ زہدوتقویٰ عالم یہ تھا کہ بعد نماز عشاء جلد سو جایا کرتے اور رات 1 بجے اٹھ کر ذکر و اذکار میں بقیہ رات گزار دیتے تھے۔ رات کے آخری پہر میں شب بیداری کا یہ سلسلہ زمانہ طالب علمی سے ہی تھا جو آخری وقت تک رہا۔ عفو ودرگزر توان میں اس قدر تھی کہ بڑی سے بڑی تکلیف دینے والوں کو بھی باوجود قدرت رکھنے کے معاف کردیا کرتے تھے۔ میرا بارہا ذاتی مشاہدہ رہا ہے کہ بچپن میں جب ہم سے کوئی شرارت سرزد ہوتی اور محلے والوں سے شکایات ملتیں تو وہ ہمیں کبھی دانٹ ڈپٹ یا کبھی پیار محبت سے سمجھاتے مگر مجال ہو کہ کبھی ہاتھ اٹھایا ہو۔ جود وسخیٰ ایسا کہ جو بھی ان کے پاس اپنی ضرورت لیکر آتا کم و بیش ان کی ضرورت کی تکمیل ہوجایا کرتی۔

تصانیف

مولانا نے علمی دنیا میں اپنی تین اہم کتابیں بھی چھوڑی۔

 ٭ میری نماز
 ٭ سیرت بدرالدجیٰ
٭ طلاق طلاق طلاق

سیرتِ بدالدجیٰ” فن سیرت نگاری پر وہ نادر اور منفرد کتاب ہے جو اس فن پر اپنی مثال آپ ہے۔ اس کتاب کی تصنیف جس عرق ریزی اور جدوجہد سے کی گئی ہے وہ کتاب کے مطالعے کے بعد ہی آپ پر آشکارہ ہوگی۔ اس کتاب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی کی کئی ایسے پرتیں کھولی گئیں ہیں جن پر شیعوں کی عصبیت کی کائی جمی ہوئی تھی۔

آخری تین دن

بروز جمعہ 30 مارچ 2018 مولانا پونہ سے تقریبا دوپہر 12 بجے سولاپور تشریف لائے۔ پہلے تو طبیعت کی ناسازگی کی وجہ سے خطبہ جمعہ سے معذرت چاہی لیکن کچھ لمحوں بعد ہی اپنے چھوٹے بھائی سے کہنے لگے کہ آج خطبہ جمعہ میں ہی دونگا اور طبیعت کی گرانی کے باوجود 35 منٹ کا پر مغز خطبہ مسجدالسلام میں دیا جو ان کا آخری خطبہ ثابت ہوا۔
دوسرے دن بروز ہفتہ بعد نماز فجر اپنے چھوٹے بھائی سے فرمانے لگے کہ میں بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں رات میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا اور یہی بات بروز اتوار بھی مولانا نے کہی لیکن اس بار ایک بات کا اضافہ اوربھی کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 63 سال کی عمر میں ہوئی تھی اور میری خواہش ہے کہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے مطابق یعنی 63 سال کی عمر میں ہی وفات پاؤں۔ لیکن گھر والوں نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا کسے خبر تھی کہ اللہ والوں کی باتیں بے معنی نہیں ہوا کرتیں جس کا افسوس ہم اہل خاندان کو ہمیشہ ہی رہا۔ پھر اسی دن یعنی 1 اپریل 2018 بروز اتوار تقریبا شام 5 بجے اپنے اتارے ہوئے کپڑے چھوٹے بھائی کو دیتے ہوئے خلاف معمول کہا، “لو اسے جلا دینا” پھرعلیک سلیک کے بعد پونہ کے لئے روانہ ہوگۓ۔ سفر بھی پر سکون تھا اہل خانہ کے ساتھ سفر سے لطف اندوز بھی ہوئے اورتقریبا رات 11 بجے پونہ پہونچے۔ قضاء حاجت سے فارغ ہوئے اور اپنے بستر پر بغرض استراحت بیٹھے ہی تھے کہ اچانک طبیعت میں گرانی محسوس ہونے لگی اہل خانہ کو آواز دیا، سب جمع ہوئے اور دیکھا کہ آپ نے بستر کی چادر کوبھینچ کر پکڑ رکھا ہےاور بآواز بلند تین مرتبہ لاالہ الا اللہ کا ورد کیا۔ تکلیف بڑھتی ہی جارہی تھی کہ فورا ان کے بڑے صاحبزادے نے گاڑی نکالی اور اسپتال کی طرف روانہ ہوئے، اسپتال میں داخل کروایا لیکن چند ہی لمحوں بعد 63 سال کی عمر میں بروز پیر 2 اپریل تقریبا 1 بجے رات اسپتال ہی میں مولانا کی روح قفص عنصری سے پرواز کرگئی۔ اللهم اغفرله وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله و وسع مدخله وأدخله الفردوس الأعلى من الجنة۔ ان کی وفات پر خاص کر ہم اہل خاندان کو جو رنج و غم ہوا وہ بھلایا نہیں جاسکتا لیکن موت کا تلخ جام ایک نہ ایک دن ہم سب کو پینا ہے۔

تجہیزو تکفین

ہسپتال کی تمام کاروائی کی تکمیل کے بعد مولانا کے جسد خاکی کو کونارک پورم سوسائٹی میں موجود ان کے ذاتی مکان لایا گیا۔ صبح ہوتے ہوتے ان کے وفات کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی جہاں ان کے آخری دیدار کے لیۓ لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ سوسائٹی میں اس سے قبل اتنا بڑا ہجوم کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اہل خانہ ان کے آخری رسومات میں سرگرداں تھےکہ ایک بڑا عجیب واقعہ رونما ہوا بقول ان کے چھوٹے صاحبزادے۔ کہ جب مدفن کی جگہ دیکھنے قبرستان گئے تو وہاں ان کو گورکن نے دو جگہ دکھائیں جس میں قبرستان کی سڑک کے کنارے ایک جگہ مدفن کیلئے پسند آئی اور وہاں کھودائی شروع کررادی گئی۔ مگر ابھی کھودائی مکمل بھی نہ ہونے پائی تھی کہ ایک بڑا چٹانی پتھر رونما ہوا۔ پتھر کا حجم اس قدر طویل تھا کہ وہاں سے نکالا نہ جاسکا بلاآخر دو فٹ کی دوری پر ایک سایہ دار درخت کے نیچے دوسری قبر کھودی گئی جو اب ان کی آخری آرام گاہ ہے۔ دوسرے دن ہی یہ خبر ملی کہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے اس سڑک کو چوڑا کیا جارہا ہے اور اس صورت میں قبرستان کا وہ حصہ بھی سڑک کی نظر ہونے والا ہے جہاں پہلی مرتبہ قبر کھودتے ہوئے ایک بڑا پتھر نکلا تھا۔ الغرض اللہ کا کرشمہ ایسا ہوا کہ ان کی آخری آرام گاہ سڑک میں شامل ہونے سے بچ گئی۔

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں
مرنے والوں کی جبیں روشن ہیں اس ظلمات میں
جس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں

Avatar

Written by