عیدالفطر دراصل معرکۂ بدر کا جشن مسرت ہےIslam Urdu Articles 

عیدالفطر دراصل معرکۂ بدر کا جشن مسرت ہے

مسلمانوں پر سنہ 2 ھ میں رمضان کے روزے فرض ہوئے۔
(فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ) (بقرہ : ۸۵)
ابھی ماہِ رمضان کے صرف چند دن گزرے تھے کہ بشارتِ الٰہی کے مطابق رسولِ اکرم ؐاپنے تین سو تیرہ (313) پیروان کے ساتھ مدینہ سے باہر نکلے۔ نہ جنگ کا ارادہ تھا اور نہ اس کا موقع اور نہ اس کی صلاحیت۔ لہٰذا کوئی عسکری تیاری نہ تھی۔ کوئی فوجی استحکام عمل میں نہ آیا تھا۔ مگر 17؍ رمضان 2 ھ ؁ مطابق 13؍ مارچ 624ء ؁ کو ’معرکۂ بدر‘ پیش آگیا۔ کافر و مومن، یزداں و اہرمن اورحق و باطل کا معرکہ گرم ہوگیا۔
(قَدْ کَانَ لَکُمْ آیَۃٌ فِیْ فِیْءَتَیْنِ الْتَقَتَا ، فِءَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ اُخْریٰ کَافِرَۃٌ) (سورۂ آلِ عمران : ۱۳)

اور آپؐ نے ایک مٹھی کنکر اُٹھا کر قریش کے چہروں کی طرف پھینک دی۔ جس کو کتاب لاریب نے (وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی) (۸۔۱۷) جب آپؐ نے (مشت خاک) پھینکا تو در حقیقت آپؐ نے نہیں پھینکا بلکہ اﷲ نے پھینکا۔ اس کے بعد آپؐ نے جوابی حملے کا حکم صادر کرتے ہوئے فرمایا ’’شَدُّوْا‘‘ چڑھ دوڑو، آگے بڑھو۔ جنت تمھارے انتظار میں ہے۔ عمیر بن حمام نے کہا: بہت خوب ، بہت خوب!



خلافِ توقع، صرف اور صرف بارِ الٰہ میں سر بسجود و تضرع و ابتہال فرما تھے سائلانہ اور فقیرانہ ہاتھ پھیلائے ہوئے فتح و نصرت کی دعا مانگتے ہوئے ’یا حی یا قیوم‘ کا ورد زبانِ مبارک پر جاری و ساری رکھتے ہوئے اور قبلہ رو ہوکر گڑگڑاتے ہوئے یہ دعا مانگ رہے تھے:
’’اللھم انجز لی ما وعدتنی‘‘
اے اﷲ! تو نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے اس کو پورا فرما۔
اور لڑائی جب شباب پر آگئی تو آپؐ نے یہ دعا فرمائی:
’’اللھم ان تھلک ھذہ العصابۃ من اھل الاسلام لا تعبد فی الارض‘‘
اے اﷲ! اگر مسلمانوں کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر زمین میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔ (اس لیے کہ یہ اُمت آخری اُمت ہے۔)
گریہ و زاری اور محویت کا یہ حال تھا کہ دوش مبارک سے چادر گر گئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے چادر اُٹھا کر دوش مبارک پر ڈال دی اور آپؐ کی کمر سے چمٹ گئے اور آپؐ کا ہاتھ تھام لیا اور عرض پرداز ہوئے ،
’’یا رسول اﷲ! حسبک فقد الححت علی ربک‘‘
یا رسول اﷲ ! بس کیجیے ۔ آپؐ نے اﷲ کے حضور میں بہت الحاح اور آہ و زاری کی۔
قرآن لا ریب نے ان الفاظ میں آپؐ کو یاد دلایا ہے:
(اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملائکۃ مردفین) (۸۔۱۰)
اِس وقت کو یاد کرو کہ جب تم اﷲ سے فریاد کررہے تھے تو اﷲ نے تمھاری دعا قبول کی کہ میں تمھاری ایک ہزار فرشتوں سے لگاتار مدد کروں گا۔
(سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب) (۸۔۱۲)
میں کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دوں گا۔

بروایت صحیح بخاری آپ کی زبان پر یہ آیت جاری تھی:
(سیہزم الجمع و یولون الدبر) (قمر ۔ ۴۵)
عنقریب کافروں کی یہ جماعت شکست کھائے گی اور پشت پھیر کر بھاگے گی۔
تھوڑی ہی دیر میں مشرکین کے لشکر میں اضطراب کے آثار نمودار ہونے لگے اور تابڑ توڑ حملوں سے درہم برہم ہونے پر مجبور ہوئے اور بے ترتیبی کے ساتھ پیچھے ہٹے۔ غرض کہ ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ شکست سے دوچار ہوئے اور بالآخر مسلمانوں کی فتح کامل پر ختم ہوا۔

فرعونِ اُمتِ رسول اﷲ کا قتل عفراء کے بیٹے معاذ اور معوذ نے کیا۔ عکرمہ اپنے باپ ابوجہل کی حمایت میں (جو ابھی اسلام نہیں لائے تھے) معاذ کے شانہ پر اس زور سے تلوار ماری کہ ہاتھ کٹ گیا اور تسمہ لگا رہا۔ ہاتھ بیکار ہوکر لٹک گیا۔ شام تک معاذ اسی حالت میں لڑتے رہے۔ تکلیف زیادہ ہونے لگی تو ہاتھ کو قدم کے نیچے دباکر اس زور سے کھینچا کہ تسمہ علیحدہ ہوگیا۔ اور حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت تک زندہ رہے اور معوذ بن عفراء غزوۂ بدر میں لڑتے لڑتے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ اس معرکے میں چودہ مسلمان شہید ہوئے۔ چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے۔ لیکن مشرکین کے ۷۰؍ آدمی مارے گئے اور ۷۰؍ قید کیے گئے جو عموماً سردار اور سر بر آوردہ حضرات تھے۔ مثلاً عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوالحکم بن ہشام، امیہ بن خلف، زمعہ بن الاسود، پسرانِ حجاج نبیہ و منبہ ۔ مزید کچھ سردار قتل کردیے گئے۔ مالِ غنیمت بھی ہاتھ لگا۔ آپؐ نے عبد اﷲ بن کعبؓ کو اس کی نگرانی سونپی تھی۔ جب وادئ صفراء میں آپؐ پہنچے تو مالِ غنیمت مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرمایا۔



الحاصل غزوۂ بدر جس میں اصحابِ رسولؐ کی تعداد ۳۱۳ تھی، ایک ہزار مقابل باطل لشکر پر غالب آگئے اور باطل مغلوب۔ آپؐ نے مدینہ منورہ فتح مبین کی بشارت اور خوشخبری سنانے کے لیے اہلِ عالیہ کی طرف عبد اﷲ بن رواحہ کو اور اہلِ سافلہ کی طرف زید بن حارثہ کو روانہ فرمایا مگر مدینے میں بشارت کی خبر اس وقت پہنچی جس وقت رسولِ رحمتؐ کی صاحبزادی اور حضرت عثمان غنیؓ کی زوجہ اور طیب و طاہر کی بہن حضرت رقیہؓ کی تدفین عمل میں لائی جارہی تھی۔ حضرت رقیہ کی تیمارداری کی وجہ سے حضرت عثمان غنیؓ بدر میں شریک نہ ہوسکے مگر حکماً بدر میں شمار کیے گئے چونکہ تخلّف آنحضورؐ کے حکم سے تھا۔

وادیِ صفراء سے چل کر منزل بہ منزل ٹہرتے ہوئے اور قیدیوں کا قافلہ ہمراہ لیے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے۔ مدینہ منورہ پہنچ کر قیدیوں کو صحابہ میں تقسیم فرمایا اور یہ ارشاد فرمایا:
’’استوصوا بالاساری خیرًا‘‘
قیدیوں کے ساتھ بھلائی اور سلوک کرو۔
چنانچہ صحابہ اوّل قیدیوں کو کھانا کھلاتے اور بعد میں خود کھاتے۔ اگر نہ بچتا تو کھجور پر اکتفا کرتے۔ مصعب بن عمیرؓ کے عینی بھائی ابو عزیز بن عمیر بھی قیدیوں میں تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ انصار کے جس گھر میں میں تھا، صبح و شام جو تھوڑی بہت روٹی پکتی وہ تو مجھ کو کھلا دیتے، خود کھجوریں کھا لیتے۔ مجھے شرم آتی۔ ہر چند اصرار کرتا کہ روٹی آپ کھائیں لیکن نہ مانتے اور یہ کہتے کہ رسول اﷲؐ نے ہم کو قیدیوں کے ساتھ نیک سلوک کا حکم دیا ہے۔ جو لوگ نادار تھے اور فدیہ نہیں ادا کرسکتے تھے وہ بلا کسی معاوضے اور فدیہ کے آزاد کردیے گئے۔

ابوالعاص آپؐ کی بیٹی حضرت زینب کے شوہر جن کو آپؐ کی دامادی کا شرف حاصل تھا، قیدیوں میں شامل تھے۔ حضرت ز ینبؓ نے اپنے شوہر ابوالعاص کے فدیے میں مال کے ساتھ اپنی امّاں حضرت خدیجہؓ کا رخصتی کے وقت دیا ہوا ہار بھیجا تھا۔ درّ یتیم، رسولِ رحمت، محسن انسانیت ، فخرِ رسل، افضل البشر ؐنے حضرت خدیجہؓ کا دیا ہوا ہار دیکھا تو آپؐ پر رقت طاری ہوگئی۔ صحابہؓ سے اجازت چاہی اور اس شرط پر کہ حضرت زینب کی راہ نہ روکیں گے۔ بلا فدیہ چھوڑ دیا۔ اصحابِ محمدؐ جو اُمتِ رسول کے ستارے ہیں، نے بسر و چشم قبول کرلیا۔

اہلِ مکہ لکھنا پڑھنا بھی جانتے تھے، ان سے یہ طے کیا گیا کہ جس کے پاس فدیہ کی رقم نہ ہو وہ مدینے کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں اور آزاد ہوجائیں۔ یہی ان کا فدیہ ہوگا۔

نبوت کے ۱۳؍ سال تک جانی و مالی نقصان کے بعد بھی جو طرزِ عمل اصحابِ محمدؐ کا ان کفارِ مکہ کے ساتھ رہا وہ تاریخ کے صفحات میں تلاشِ بسیار کے باوجود نہیں مل سکتی۔ اہلِ ایمان کے لیے ایمان کے تابناک نقوش یہی ہیں۔



اہلِ حق کا باطل کے ساتھ یہ پہلا معرکہ تھا اور یہ معرکہ در حقیقت شوکتِ اسلام کا سنگ بنیاد تھی۔ باپ او ربیٹے میں ، بھائی اور بھائی میں صف آرائی ہوئی تھی۔ اُصولوں کے اختلاف پر تلواریں بے نیام ہوئی تھیں، مظلوم و مقہور نے ظالم و قاہر سے ٹکراکر اپنے غصّے کی آگ بجھائی تھی۔ اس لیے جو لوگ اس جنگ میں شریک ہوئے وہ قطعی جنتی قرار دیے گئے کیونکہ اسلام کے سب سے بڑے دشمن قریش تھے۔ ان کی قوت کا اس میں خاتمہ ہوا۔

 یوں تو ہر کامیابی پر اظہارِ مسرت نفسِ انسانی کی جبلی خواہش ہے، بالخصوص ’جنگ‘ جیتنے پر ساری قدیم و جدید قومیں جشنِ مسرت مناتی آئی ہیں اور مناتی رہیں گی۔ فطری طور پر اہلِ عرب جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ مسلم مجاہدین عرب کو مشرکینِ مکہ پر فتحِ کامل حاصل ہوئی، لہٰذا ان کی فطری خواہش تھی کہ اس فتحِ عظیم کا ’جشنِ عظیم‘ منائیں۔ ہر چند کہ جائز مطالبہ تھا مگر جس وقت غلبہ پایا تھا وہ ’رمضان‘ کا مہینہ تھا جس میں مسلمانوں پر پہلے پہل ’روزہ‘ فرض ہوا تھا۔ اور ’روزہ‘ کا اہم مقصد فخر و مباہات کرنا نہیں بلکہ اس کو دبانا ہے۔ جذبات کی رَو میں بہنا نہیں بلکہ اس کو قابو میں رکھنا ہے۔ تکبر و تبختر دِکھانا نہیں بلکہ اس سے کنارہ کشی کرنا ہے۔ لذتوں سے ہم کنار ہونا نہیں بلکہ اس سے محترز و مجتنب رہنا ہے۔ تقاضائے صیام شان و نمائش نہیں بلکہ کسرِ نفسی و آزمائش ہے۔ نام و نمود نہیں بلکہ عجز و سجود ہے۔ ماہِ رمضان ہوائے نفس کے علی الاعلان مظاہرات پر محاسبہ کی حیثیت رکھتا ہے اور فتح و کامرانی پر اظہارِ مسرت سرکش نفسِ انسانی کی سب سے بڑی لذت تھی۔ لہٰذا رسول اﷲؐ  اس کی اجازت کبھی نہ دے سکتے تھے۔ چنانچہ آپ ؐ نے ’روزہ‘ کے فیوض اور ’رمضان‘ کے قیود کا لحاظ کرکے اس کی اجازت نہ دی کہ مسلمان رمضان میں کوئی جشنِ مسرت منائیں۔ نفس کی بے تابیاں ختم ہوگئیں۔ ولولے سرد پڑ گئے اور خواہشات کا دریا اُتر گیا۔ اِدھر رمضان المبارک ختم ہوکر شوال کا چاند نکلا۔ پہلے ہی سے ماہِ شوال عربوں کے نزدیک کیف و سرور اور مسرت و شادمانی کا مہینہ سمجھا جاتا تھا۔ عربوں کے جذبات کا خیال مدنظر تھا، صبحِ شوال کو رسولِ اکرم ؐ نے مسلمانوں کو اجازت دی کہ اپنی یہ جائز خواہش پوری کرلو۔ ’جشنِ فتحِ بدر‘ منالو۔ اس عظیم جنگی کامیابی اور پہلی عسکری فتح یابی کی شادی رچالو۔ چنانچہ مسلمان اذنِ عام پاکر ’جشنِ مسرت‘ منانے نکلے۔ چونکہ اسلام (اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکْیِ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ) کا فلسفۂ زندگی پیش کرتا ہے جس وجہ سے اسلام میں ہر کام ان کے نام سے شروع کیا جاتا ہے اس لیے مسلمان جب یہ جشنِ مسرت منانے کو اکٹھا ہوئے تو جشن کی ابتدا متعدد اسلامی نعروں اور کئی فوجی تکبیروں کے ساتھ دو رکعت نماز سے کی۔ نماز کے بعد آپ ؐ نے خطبہ دیا تاکہ اسلامی و اخلاقی تعلیمات سے باخبر کریں۔ اس کے بعد مسلمان دن بھر جشن منائیں۔ بچے خوشی میں ناچیں، نوجوان لڑکیاں دف پر گانا گائیں۔

آپؐ  نے جنگِ بدر کے جشن کے دن کو مسلمانوں کا اسلامی اور قومی دن بنادیا کہ جب عید آوے پہلی جنگ کا نقشہ آجائے اور ان کا لہو رگوں میں دوڑنے لگے۔ اور اسلام کی موت و حیات کے دن کی یاد دلائے۔ اور جب دنیا میں مظلوم ان کو اپنی مدد کے لیے پکاریں تو وہ لبیک کہہ کر دوڑ پڑیں۔ (تلخیص مآلِ بصیرت، عطاء اﷲ پالوی)

ھ2 ؁ رمضان المبارک کا مہینہ جس میں صدقۃ الفطر کی ادائیگی کی فرضیت عائد کی گئی اور یہ اعلان کیا گیا کہ مسلم مرد، عورت، آزاد، غلام، چھوٹا بڑا سب کے لیے ایک صاع نکالنا ضروری ہے کیونکہ یہ جشنِ مسرت ہے۔

اسی سال جنگِ بدر کے بعد ذی الحجہ 3 ھ ؁ میں آپؐ نے اپنی چھوٹی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہرا کی شادی اٹھارہ سال کی عمر میں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے کی۔ جہیز میں بان کی چارپائی، چمڑے کا گدا، ایک چھاگل، ایک مشک، دو چَکّیاں اور مٹی کے دو گھڑے تھے۔ اسی سال آپؐ نے اپنی دوسری صاحبزادی اُمّ کلثوم کا نکاح حضرت عثمان بن عفانؓ سے کیا۔ قربانی بھی اسی سال مقرر ہوئی۔

کتاب سیرت بدرالدجیٰ : مولف – مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی سے ماخوذ ایک اقتباس

کتاب منگوانے کے لیے یہاں کلک کریں۔