امّت مسلمہ پر ظلم و ستم ۔ ذرا اپنا محاسبہ کر کے دیکھئے!Urdu Articles 

امّت مسلمہ پر ظلم و ستم ۔ ذرا اپنا محاسبہ کر کے دیکھئے

آج سارے عالم میں امّت مسلمہ پرجو جور و جفا ِ،سزااور لعنت و ملامت کی بوچھار ہورہی ہے ، کہیں یہ ہمارے اعمال کی سزا تو نہیں ہے؟ ہم صرف غیروں پر الزام دے کر آہ و فغاں کرنے کے وادی ہوگئے ہیں اور خود اپنی ذات کا محاسبہ نہیں کرتےکہ آج صرف اور صرف رحمۃللعالمین کی امّت پر ہی ظلم و ستم کیوں ہورہاہے؟

صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کو اس بات پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ وحدہُ لاشریک کو ماننے والے مسلمانوں پر ہی مسیحت ، صہیونیت،آمریت ، جمہوریت اور کمیونزم کی یلغار کیوں ہے؟ ذرا اپنا محاسبہ کر کے دیکھئے۔



ہم ملک کی وفاداری اور اس کے آئین کی پاسداری کا دم بھرتے ہیں ۔ملک کی حفاظت اور اس کی سالمیت کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔رواداری اور وطن دوستی کا چرچا زبان زدِعام ہے۔سیکولرزم،مساوات اور سوشلزم کا جھنڈا بلند کرتے ہیں ،مگر شریعت مطہرہ اور فرائضِ منصبی  کی ادائیگی سے کوسوں  دور رہتے ہیں ، دنیا اور اس کے حصول کی خاطر حرام و حلال کی تمیز ختم ہوگئی ہے۔کل جو لوگ سود اور رشوت کو حرام کہہ رہے تھے ،آج عالمی گلوبلائزیشن کے تحت معاشی استحکام کےلئے اس کو صحیح قرار دیتے ہیں ۔

یہ کتنی بڑی ستم ظریفی اور بدنصیبی ہے کہ خالد بن ولید ، موسیٰ بن نصیر ، طارق بن زیاد ،محمد بن قاسم ،غازی صلاح الدین ایوبی کی قوم کشکول گدائی لئے اپنی بقاو تحفظ کی ضمانت اور محفوظ مستقبل کی بھیک  سیاسی  پارٹیوں ، تنظیموں اور پارلیمنٹ کے ایوانوں سےمانگ رہی ہے، جن کا وجود ہی کفرو الحاد،سیاسی ہتھ کنڈوں اور ظلم و جبر کی بنیاد پر قائم ہے۔ حیات جس کا منتہا ہی موت ہے اس کی بھیک مسلمان اقوام عالم سے مانگیں کتنی  شرم کی بات ہے

کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کادل

کہتا ہے کون اسے کہ مسلمان کی موت مر

آج ہمارا اس نظام زندگی اور دستور حیات پر کچھ بھی اعتبار نہیں ، جس کا مکمل آئین قرآن پاک اور شریعت محمدی کی شکل میں صفحۂ دنیا پر موجود ہے ۔ جو ابدی اور آفاقی ہے ۔ خالق ارض و سماء  اور مالک دوجہاں جس نے جن و انس کو صرف اور صرف اپنی اطاعت و بندگی کےلئے پیداکیا ہے۔ اس بندگی اور اطاعت کے بجائے آج کا مسلمان مادی ترقی کی دور میں شامل ہونے کےلئے تمام معاشی اور مادی ہتھ کنڈے آزمارہا ہے ۔ ملکی آئین و دستور کی شقوں کی ضمانت کی فکر ہمیں سڑکوں پر اتر آنے کو مجبور کردے رہی ہے ۔ یہ کیسی ناعاقبت  اندیشی اور بے شعوری ہے ؟

ہماری کامیابی کا راز جس شاہراہِ عظیم پر چلنے میں مضمر ہے ، اس کو ہم چھوڑبیٹھے ہیں ۔ ہم رحمۃللعالمین کی امتِ خیر ہیں ، لیکن سارے عالم میں اسلام ہم سے رسوا ہورہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جگہ ہم مشق ستم بنے ہوئے ہیں ۔

کہاں گئی ہماری غیرت و حمیت ، نوجوانوں کا جوش و ولولہ ،بوڑھوں کا فکر و عمل ، عورتوں میں عزت و ناموس کی حفاظت کا جذبہ ۔ رب کائنات کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے مطیع و فرمانبردار نیک بندوں کی حفاظت و سربلندی ،ہر حال میں ہردور میں ہر جگہ کرتا رہے گا، پھر وہ ہماری مدد کو کیوں نہیں آتا ۔کیا اس کا وعدہ جھوٹا ہے (نعوذباللہ



حقیقت در اصل یہ ہے کہ اس نے نیکو کار ، باعمل اور مومن بندوں کی مدد کا وعدہ کررکھا ہے ۔ سیکولر ، روادار، مساوات بین المذاہب کے عاملین، وطن پرست ،قوم پرست،مصلحت اندیش، زرپرست ، مادّہ پرست،اور مفاد پرست،سوشل ریفارمر، پارٹی کے وفادار ورکر ، ووٹ پرست، نافرمان نام ونہاد مسلمانوں کا وعدہ نہیں کررکھا ہے۔

ہم اور ہمارے قول و فعل میں جو تضادہے،یہی اصل میں ہماری کم مائیگی اور ناقدری کی وجہ ہے ۔تحریر و تقریر، زبان و بیان ، وعظ و نصیحت کی حد تک ہی اسلام رہ گیا ہے ۔ عمل اور کردار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔دنیا داری میں مسلمان کسی سے پیچھے نہیں  ہے۔تن پروری اور خود پرستی ہمارے گھروں کی لونڈی ہے۔ توہم پرستی میں ہم رومیوں کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔بت گری نہیں کرتے تو کیا ہوا شیوۂ آزری تو اپنا پیشہ ہے۔قبر پرستی اور مردہ پرستی کے اسرار و رموزکوئی ہم سے سیکھے ۔ ثقافت و تمدن میں انقلاب ہم لارہے ہیں۔ساز و  آواز ، چنگ و رباب کی محفلیں ہم سے آباد ہیں ۔جہالت میں آج تک ہم نے کسی کو بڑھنے نہیں دیا۔ہماری عیش پرستی کے فسانے زبانِ زد عام ہیں۔اوباشی آوارہ گردی ہمارے جوانوں کا طرۂ امتیاز ہے۔نفاق ہمارے خون میں شامل ہوچکا ہے۔مذہب سے بے زاری اور دوری ہمارا اثاثہ بن چکا ہے ۔

ہم لبرل  (روادار) ،ڈیموکریٹ، سوشلسٹ،کیمونیسٹ،ماڈریٹ،بیوروکریٹ اور سیکولر سب کچھ ہوسکتے ہیں ،مگر رب العالمین کے مطیع و فرمانبردار،اطاعت گزار ،باعمل، شریعتِ مطہرہ کے پیروکار، متقی و پرہیزگار اور مومن بندہ بننے کو تیار نہیں ، تو پھر ہم پر رحمٰن و رحیم کی رحمت و شفقت اور اس کا فضل کیسے نازل ہو؟ہم اقوام عالم کی صف میں کھڑے ہوسکتے ہیں۔جدیدیت کے پیروکار بننے میں فخر محسوس کر سکتے ہیں مگر امت محمدیہ کی صفات اپنانا پسند نہیں کرسکتےہیں۔ یا ارحم الرٰحمین یاغفورالرحیم۔

ہماری بے حسی ہمارے چہروں سے عیاں ہے۔ہم اس حد تک  قعر ِمذلت میں گر چکے ہیں کہ کسی کی آذانِ صبح گاہی  بھی اثر نہیں کرتی۔ ہمارا ضمیر اتنا مردہ ہوچکا ہے کہ ماں ،بہنوں اور بیٹیوں کی مظلومانہ چیخ و پکار بھی کوئی حرارت و جذبہ پیدا نہیں کرتی۔ذلت و خواری کوہم نے اپنا مقدر سمجھ لیا ہے ۔(نعوذباللہ) برسوں ہوئی غیرت بھی ہم سے روٹھ کر جاچکی ہے ۔خون تو نہ جانے کب کا پانی بن چکا ، ایسے میں اپنی حالت بدلنے کا احساس کیسے ہوسکتا ہے؟

برادران ِ وطن کا  مذہب ہی بت پرستی ، شجر وحجر پرستی  اور فرد پرستی ٹھہرا مگر ہم نے تعزیہ پرستی کے محرّمی اکھاڑوں و جلوس ، مزارو قبر پرستی کے پنجے میں  گرفتار ہوکر قوم  وملت کو صرف آزاد ہندوستان میں سیکڑوں خونی فسادات کا حسین تحفہ بخشا ہے ۔

رام للّا کی پوجا کرنے والے برادرانِ وطن مختلف ذاتوں ، طبقوں اور عقیدوں میں بٹے ہونے کے باوجودباطن میں مسلمانوں کی نسل کشی یا ملک بدری کےلئے ایک بھگوے جھنڈے تلے جمع ہوسکتے ہیں مگر توحید کے علم بردار ، رسول صادق کی امت مسلمہ کے ہندوستانی مسلمان یہ ثابت کرنے کو ہرگز تیار  نہیں کہ باطل اور طاغوتی  طاقتوں کےمقابلے میں ہم ایک ہیں ۔وہ ایک مسجد (بابری مسجد)کے ڈھائے جانے کی خوشی میں باہم گلے مل سکتے ہیں مگر ہمیں اپنی تباہی و بربادی کا خوف بھی اپنی آزادی و بقا اور مذہبی امور کی محافظت کی خاطر متحد نہیں کرسکتا۔

مسلمانوں میں دیگر اقوام عالم کی طرح جب وطنّیت اورنسلیّت کا فتنہ ابھرا تو ہمیں دنیا کی حقیر ترین راندہ ٔدرگاہ  قوم (یہودی)کے مقابلے میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا(عرب اسرائیل جنگ میں مصر و شام کی شکست)۔ جب سے ہم اللہ وحدہ لاشریک کی رسّی کو چھوڑ کر آقائے جمہور اور خدائے کمیونزم کے آگے سر جھکا دیا ہے۔ذلّت و خواری ، تباہی و بربادی اور شکست وریخت ہمارا مقدّر بن گئی ہے۔

لہٰذا ہمیں اپنی بے کسی ، بے بسی ، مجبوری و لاچاری ،حسرت و مایوسی  اور مستقبل کے اندیشے پر آہ  و واویلا کرنے کے بجائے اپنے اعمال  وافعال اور کردار پر غور و فکر کرنا چاہئے۔

ہم اغیار کا گلہ شکوہ کرکے اپنی حالت سدھار نہیں سکتے ہیں ۔ہم تباہی و بربادی کا رونا رو کر حال بہتر اور مستقبل محفوظ نہیں کرسکتے ہیں ۔ہم اللہ کے احکام کو بھلا کر اور شریعتِ محّمدی کی خلاف ورزی کرکےاغیار سے  لاکھ پنجہ آزمائی کریں ،احتجاج کا راستہ اپنائیں یا قانونی موشگافیوں کا سہارالیں ، حالات نہیں بدل سکتے ہیں ۔

ہماری کامیابی ، ترقی و فلاح ، عزت و افتخار اور سکون و اطمنان شریعتِ محّمدی کی شاہراہِ عظیم پر چلنے میں پنہاں ہے۔جہاں اسلام کے قوانین اور اس کے دفعات کو اپنی ذاتی زندگی میں شامل کرنا ہوگا اور حقِ بندگی ادا کرناہوگا۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ جب تک ہم اللہ وحدہ لاشریک کی رسی کو مظبوطی سے تھامے رہے اور رسولِ صادق کے بتائے ہوئے راستے پر اعمال صالحہ کے ساتھ زندگی گزارتے رہےتو دنیا ہمارے قدموں میں تھی۔قیصر و کسریٰ کے تخت و تاج ہمارے پاؤں نے روندڈالے۔



مگر جب ہم رسولِ برحق کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا چھوڑ دیاتو ہمارا تنزل اقوامِ عالم کےلئےایک عبرت کا فسانہ بن کر رہ گیا۔

جب دل میں ہوائے طاعت تھی سر سبزشجر امید کا تھا

جب صر صر عصیاں چلنے لگیں اس پیڑ نے پھلنا چھوڑ دیا

اسلام امن وسلامتی،  وآشتی،طاعت و بندگی،مساوات و انصاف اور عالم گیر بھائی چارے کا نقیب بن کر آیا ہے۔طاعت و بندگی ، حلیمی و بردباری، اخلاقِ حسنہ اور اعمالِ صالحہ کے مجموعہ صفات کا دوسرا نام امتِ مسلمہ یا قومِ مسلم ہے، مگر کوئی بھی مسلمان اسی وقت تک مسلمان ہے ،جب تک وہ اپنے عقیدے ، اسلامی تشخص اور طاعت و بندگی کے ساتھ دینِ حنیف پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئےدیگر اقوامِ عالم یا برادرانِ وطن کے ساتھ بھائی چارہ، رواداری، صلہ رحمی،سماجی مساوات اور امدادِ باہمی کے صالح معاشرتی نظام ِ زندگی کو اپنائے ہوئے ہے۔

ہم کو یقین رکھناہوگا کہ خالقِ دوجہاں اور ہادی اکرم ﷺکے احکام ِ شریعت تمام ارضی قوانین سے بہتر اور بالاترہیں۔ہمیں افعال و کردار سے ثابت کرنا ہوگا کہ اسلام سب نظامِ زندگی سے پیاراہے۔احکامِ خداوندی اور شریعتِ محمدی کی بجا آوری ہم کسی مصلحت اندیشی سے ترک نہیں کرسکتے۔مسلم قوانین میں رخنہ اندازی کرنے والوں کو احساس دلانا ہوگا کہ ہم ہندی مسلمان شریعتِ مطہرہ کی پیروی اور خدائے واحد کی اطاعت و بندگی اپنی جان و مال کی قربانی دےکر بھی کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں ۔ وقت کی بڑی سے بڑی کوئی طاقت، سیاست کی چالبازیاں ،یا کسی قسم کا مادی لالچ ہمارے دین و عقائد  میں مداخلت کا باعث نہیں بن سکتے۔ہمارا اس بات پر یقین ہے کہ

امن عالم کی بس ایک بنیاد ہے

کل جہاں ایک آدم کی اولاد ہے

امن عالم پیامِ خدائی میں ہے

آشتی حکمتِ انبیائی میں ہے

راز جس روز  دنیا یہ جاں پائے گی

یہ زمیں اپنے محور پہ آجائے گی

 

محمد صلاح الدین ، بابو سلیم پور، ضلع دربھنگہ، بہار