کیا رسول اللہؐ ’امّی‘ بمعنی انپڑھ تھے؟جانئیے لفظ ’امّی‘ کی حقیقتUrdu Articles 

کیا رسول اللہؐ ’امّی‘ بمعنی انپڑھ تھے؟جانئیے لفظ ’امّی‘ کی حقیقت

اُمّ المومنین حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہما فرماتی ہیں ’’ثُمَّ حُبِّبَ اِلَیْہِ الْخَلَاءُ فَکَانَ یَخْلُوْ بِغَارِ حِرَاء‘‘۔ (بخاری) پھر آپؐ کو خلوت اور تنہائی محبوب بنا دی گئی اور آپ ؐ غارِ حرا میں جاکر خلوت گزیں ہوئے۔

ایک دن غارِ حرا میں حسبِ معمول عبادت میں مشغول تھے کہ فرشتہ وحی لے کر آیا اور سلام کیا۔ پھر یہ کہا ’’اِقْرَأْ‘‘ (پڑھیے)۔ آپؐ نے فرمایا ’’مَا اَنَا بِقَارِئٍ۔‘‘ (میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔) تین مرتبہ معانقۂ جبرئیل کے بعد آپ ؐ میں پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہوگئی اور پانچ آیتیں جو سورۂ علق کی ابتدائی ہیں، آپؐ نے پڑھیں۔

O اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ

O خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ

O اِقْرَأْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ

    O عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَم

آپ اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے آدمی کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ آپ پڑھیے اور آپ کا رب نہایت کریم ہے۔ وہ جس نے انسان کو قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔ وہ جس نے انسان کو وہ باتیں سکھائیں جو اسے معلوم نہ تھیں۔



بعد ازاں آپؐ گھر تشریف لائے اس حال میں کہ آپؐ کے بدنِ مبارک پر لرزہ اور کپکپی طاری تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا سے آپؐ نے فرمایا ’’زَمِّلُوْنِیْ، زَمِّلُوْنِیْ‘‘ مجھ کو کچھ اُڑھاؤ۔ کچھ دیر بعد خوف جاتا رہا۔ طبیعت بحال ہوئی۔ تمام واقعہ حضرت خد یجہؓ سے بیان کیا۔ انھوں نے آپؐ کو تسلی دی اور کہا کہ آپ نیکی کرتے ہیں، صدقہ دیتے ہیں، مسکینوں کو کھلاتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، لوگوں کے بوجھ اُٹھاتے ہیں، ناداروں کی خبر گیری فرماتے ہیں۔ امین ہیں،  لوگوں کی امانتیں ادا کرتے ہیں۔ مہمانوں کی ضیافت کا حق ادا کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔ اور یہ کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں خدیجہ کی جان ہے آپ اس اُمت کے نبی ہوں گے۔

بیانِ حقیقت

یہ حقیقت ہے کہ جبرئیلِ امین سورۂ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں تقریراً نہیں بلکہ تحریراً لے کر آئے تھے کیونکہ اُمّیت قرأت کے منافی نہیں بلکہ کتابت کے منافی ہے۔ یعنی اُمّی آدمی تعلیم و تلقین سے قرأت کر سکتا ہے لیکن اُمّی شخص لکھی ہوئی تحریر کو نہیں پڑھ سکتا۔

جیسا کہ قسطلانیؒ جو شارحِ بخاری ہیں، مرسلاً یہ حدیث ’’آتَانِی جِبْرَءِیْلُ بِنَمْطٍ مِنْ دِیْبَاجٍ فِیْہِ کِتَابٌ….‘‘ (حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک ریشمی رومال میں ایک کتاب لائے تھے۔) جس کا ذکر علامہ ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی اپنی کتاب فتح الباری شرح بخاری، کتاب التفسیر میں تحریر کیا ہے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ جبرئیل علیہ السلام ایک حریری صحیفہ لے کر آئے اور آنحضرتؐ کے ہاتھ میں دیا اور کہا ’’اقرأ‘‘ اس حریری صحیفے کو پڑھیے۔ آپؐ نے فرمایا ’’مَا اَنَا بِقَارِئٍ۔‘‘ میں اس لکھی ہوئی تحریر کو پڑھ نہیں سکتا۔

مزید پڑھیں: کیا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا نکاح 6 سال کی عمر میں ہوا تھا؟

اسی طرح نبی اُمّیؐ کو بمعنی اَن پڑھ، ناخواندہ تسلیم کرلیا گیا ہے۔ اور آپؐ کی ناخواندگی کو اعجاز ثابت کیا گیا ہے۔ (یَتْلُوْ صُحُفًا مُّطَھَّرَۃً) مظہرِ حق ہونے کے بعد بھی ! اس اُمت کا اﷲ ہی حافظ ہے۔ مجھے یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ رسوا نہ کر تو ہم کو اعدائے دین کے ہاتھوں



حالانکہ قرآن لاریب سے ثابت ہے کہ نزولِ قرآن کی بدولت آپ ؐ کو پڑھنے کی صلاحیت منجانب اﷲ پیدا ہوگئی تھی۔

(وَ مَا کُنْتَ تَتْلُوْ مِنْ قَبْلِہٖ مِنْ کِتَابٍ وَ لَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ) (عنکبوت : ۴۸)

اور تم اس (قرآن کے نزول) سے پہلے کسی کتاب کو پڑھ نہیں سکتے تھے اور نہ تم اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے (اگر تم پہلے سے لکھنا پڑھنا جانتے) تو یہ باطل پرست لوگ (تمھارے متعلق) شکوک و شبہات پیدا کرتے۔

یہ آیتِ عنکبوت صاف بتا رہی ہے کہ پڑھنے کی عدم صلاحیت نزولِ قرآن سے پہلے تک تھی۔ ورنہ (مِنْ قَبْلِہِ) کا لفظ نہ ہوتا اور جب عدم صلاحیت کے ذکر میں (مِنْ قَبْلِہِ) کی قید لگادی گئی تو اسی سے ثابت ہوگیا کہ من بعدہ یعنی نزولِ قرآن کے بعد پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہوگئی۔

قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ’اُمّی، ’اُمّیین‘ اور ’اُمّیون‘ مختلف مقامات پر آئے ہیں جس سے ’اہلِ مکہ‘ مراد ہیں۔ قرآن میں جہاں بھی ’اُمّیین‘ اور ’اُمّیون‘ کے الفاظ آئے ہیں غیر اہلِ کتاب کے لیے استعمال ہوئے ہیں جن کو کتاب نہیں ملی۔ (وَ مِنْھُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْکِتَابَ

 

مزید پڑھیں: کیاام المومنین حضرت خدیجہؓ حضور اکرمؐ سے عمر میں 15 سال بڑی تھیں؟

قرآن کا چیلنج ہے کہ اے اہلِ مکہ ! گر قرآن کی صداقت میں شک ہے تو اس جیسا قرآن یا قرآن کی ایک ہی سورۃ بنا لاؤ۔ قرآن کا چیلنج ان پڑھوں سے نہیں، پڑھے لکھوں سے ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت ۲۶؍ کاتب قرآن کی کتابت کے لیے مامور تھے۔ کیا یہ سب کے سب اَن پڑھ تھے؟



  میرے محترم قارئین سلامت رہیں۔ محاورۂ عرب میں ’اُم‘ کے معنی اصل جڑ، مرکز کے ہیں۔ ’اُمّ الکتاب‘ (رعد:۳۹) (محکم آیات)، ’اُمّ القریٰ‘ (صدر مقام)، ’ھن اُمّ الکتاب‘ (عمران:۷) (اصل کتاب)۔ دیکھیں (لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَ مَنْ حَوْلَھَا) (شوریٰ :۷، انعام : ۹۲) تاکہ مکہ والوں اور اس کے آس پاس والوں کو ڈراؤ۔ سورۂ اعراف کی آیات ۱۵۷؍ اور ۱۵۸؍ میں جو (نبی اُمّی) آیا ہے اَن پڑھ نہیں بلکہ مکہ والا نبی ہے۔ مکہ کو مرکزیت حاصل تھی۔قصیّ بن کلاب کی قربانی رنگ لائی تھی۔ انھوں نے متفرق قبائل کو مکہ کے پہاڑ کے دامن میں یکجا کیا تھا۔ پھر یہ شرفِ مرکزیت مکہ کو حاصل ہوا۔ اور پھر عام دعوتِ اسلام کا حکم دیا جاتا ہے۔ (قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ وَ الْاُمِّیِّیْنَ أَ اَسْلَمْتُمْ) اہلِ کتاب اور مکہ والوں سے پوچھو کہ کیا تم اسلام قبول کرتے ہو۔ (آلِ عمران : ۲۰) آلِ عمران مدنی سورہ ہے۔ یہود و نصاریٰ مدینہ میں تھے، مکہ میں نہیں۔ وہاں صرف مشرک و کافر تھے۔

لمحۂ فکر

اسلام کی ابتدائی صدیوں سے لے کر قرونِ آخرہ تک جس قدر مفسرین پیدا ہوئے ان کا طریقِ تفسیر ایک رو بہ تنزل معیارِ فکر کی مسلسل زنجیر ہے …… اگر تیسری صدی میں کسی مفسر سے کوئی غلطی ہوگئی ہے تو ضروری ہے کہ نویں صدی کی تفسیروں تک وہ برابر نقل در نقل ہوتی چلی آئے۔ کسی نے اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ چند لمحوں کے لیے تقلید سے الگ ہوکر تحقیق تو کرے کہ معاملے کی اصلیت کیا ہے‘‘۔ ازمولانا آزادؒ

جو لوگ قرآن میں غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں اور اشاعتِ قرآن کو زندگی کا لائحۂ عمل سمجھتے ہیں ان کو یہ ملا ملحد و بے دین بتاتے ہیں۔ پھر عوام کے دن پھریں تو کیسے؟ اﷲ ہم لوگوں کے حال پر رحم فرمائے، آمین! اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّ ارْزُقْنَا اتِّبَاعَہٗ وَ اَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّ ارْزُقْنَا اجْتِنَابَہٗ

کتاب سیرت بدرالدجیٰ : مولف – مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی سے ماخوذ ایک اقتباس

کتاب منگوانے کے لیے یہاں کلک کریں۔