محمدؐ کی کفالت بعد عبدالمطلب کس نے کی۔ ابو طالب یا زبیربن عبدالمطلب؟Islam Urdu Articles 

محمدؐ کی کفالت بعد عبدالمطلب کس نے کی۔ ابو طالب یا زبیربن عبدالمطلب؟

دو سال آپؐ اپنے دادا عبد المطلب کی تربیت میں رہے۔ جب آپؐ کی عمر آٹھ سال کو پہنچی تو آپؐ کے دادا عبد المطلب نے بھی مکہ میں انتقال کیا اور حجون میں مدفون ہوئے۔ عبد المطلب کے دس بیٹوں میں سے زبیر، ابو طالب اور عبد اﷲ حقیقی بھائی تھے۔ ان تینوں کی والدہ فاطمہ مخزومیہ تھیں۔ علامہ ابن قتیبہ ایک نامور اور مستند مصنف مانے جاتے ہیں۔ محدثین بھی ان کے اعتماد کے قائل ہیں۔ یہی قتیبہ لکھتے ہیں کہ فاطمہ بنت عمرو بن عائذ بن عمران بن مخزوم کے بطن سے عبد المطلب کے تین بیٹے تھے ؛ زبیر، ابو طالب اور عبد اﷲ۔ (یہی بات علامہ ابن حزم نے بھی جمہرۃ الانساب میں لکھی ہے) طبقاتِ ابن سعد میں زبیر کے متعلق لکھا ہوا ہے : ’’وَ الزُّبَیْرُ کَانَ شَاعِرًا شَرِیْفًا وَ اِلَیْہِ اَوْصَی عَبْدُ الْمُطَّلِبِ۔ اور زبیر شاعر اور باعزّت شخص تھے اور انہی کو عبد المطلب نے اپنا وصی کیا تھا۔ اور شرح ابن ابی الحدید نے یہ لکھا ہے : فَاَمَّا الزُّبَیْرُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَکَانَ اَشْرَافَ قُرَیْشٍ وَ وُجُوْھَھَا۔ لیکن زبیر بن عبد المطلب تو وہ قریش کے معزّز اور باوقار سرداروں میں سے تھے۔

مؤلف کتاب المجر ابو جعفر محمد بن حبیب (المتوفی ۲۴۵ھ) نے الحکام من قریش ثم من بنی ہاشم کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ بنی ہاشم میں سے عبد المطلب کے بعد زبیر اور ان کے بعد ابوطالب سردار ہوئے۔ (کتاب المجر، ص : ۱۳۲


وفات سے قبل عبد المطلب نے اپنے بڑے بیٹے زبیر کو جو آنحضرت ﷺ کے حقیقی چچا تھے، ان کی پرورش کی وصیت کردی تھی۔ زبیر کو اپنے درّ یتیم بھتیجے سے بے پناہ محبت اور غیرمعمولی اُنس تھا۔ بچپن میں آپ کو گود میں اُٹھائے پھرتے، ہاتھوں پر جھلاتے اور لوریاں گنگناتے۔ چنانچہ ’الاصابہ‘ میں ہے کہ زبیر بن عبد المطلب نبی ﷺ کو جب وہ چھوٹے تھے جھلایا کرتے اور کہتے جاتے تھے کہ یہ محمد میرے بھائی عبد اﷲ کی نشانی ہیں۔ بڑے عیش و آرام سے جیے اور بڑی اعلیٰ عزت و توقیر پائے۔ (الاصابہ، جلد:۲، ص: ۳۰۸) نبی اکرم ﷺ کا بچپن اور آغازِ شباب زبیر کے ساتھ گزرا۔ اس لیے آپؐ ان کی بڑی عزت فرمایا کرتے تھے۔

الغرض، زبیر بن عبد المطلب اپنی نیک خصلتوں اور اعلیٰ صفتوں کی وجہ سے تمام خاندان میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے اور تمام خاندان میں نہایت عزیز اور محبوب تھے۔ زبیر کے مرنے پر انکی بہن حضرت صفیہؓ نے بڑا زوردار مرثیہ کہا تھا جس کے آخری بند کا ترجمہ یہ ہے : ’’اگر میں اپنی زبان سے اس کا مرثیہ نہ کہتی تو آنسو بہہ بہہ کر میری پسلیوں کو چور چور کردیتے‘‘۔

مزید پڑھیں: ہند بنت عتبہ مشہور بنام جگر خوارہ ۔ کتنی حقیقت کتنا فسانہ

سوائے زبیر کے حضرت صفیہؓ نے کسی اور بھائی کے مرنے پر مرثیہ نہیں کہا۔ حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا آپ کو بہت صدمہ ہوا مگر اس پر بھی مرثیہ نہیں کہا اور ابوطالب کا تو ذکر ہی نہیں۔ عبد المطلب کی وفات کے بعد آلِ ہاشم کی سرداری کا تاج زبیر کے سر پر رکھا گیا۔ حرب الفجار کے وقت آپؐ کا ِ سن ۱۵؍ سال تھا۔ قریش کی کنانہ اور قیس کے قبیلوں کے ساتھ لڑائی ہوئی اور حرم اور حرام مہینے دونوں کی حرمت چاک کی گئی۔ اس لیے اسے حربِ فجار کہتے ہیں۔ قریش کے سپہ سالارِ اعظم حرب بن اُمیہ تھے اور بنی عبد المطلب کے سردار زبیر تھے۔ اس لڑائی میں آپؐ بھی شریک تھے۔ دشمنوں کے تیر چن کر اپنے چچاؤں کو دیتے تھے۔


حلف الفضول کی تجدید کا سہرا بھی زبیر کے سر بندھتا ہے۔ زبیر بن عبد المطلب نے اپنے بعض اشعار میں اس معاہدے کا ذکر کیا ہے۔ سیّدنا آقا ؐ بھی معاہدے کے وقت عبد اﷲ بن جدعان کے گھر میں حاضر تھے۔ چچا زبیر کے مرنے کے بعد اپنی متاہل (شادی شدہ) زندگی کا خیال آیا۔ آپؐ نے اپنے چچا ابو طالب (عبدِ مناف) کے پاس اُمِّ ہانی کے لیے پیغام بھیجا مگر اس تایا نے اپنے ماموں کے بیٹے ہبیرۃ بن ابی وہب سے نکاح کردیا اور بھتیجے کو جواب دے دیا۔ (طبقاتِ ابن سعد، ج:۲، ص:۱۵۲۔ تاریخِ طبری،  الاصابہ،کتاب المجر

محمد رسول اﷲﷺ نے جب اپنے تایا ابو طالب سے شکوہ کیا تو تایا نے جو جواب دیا وہ تاریخ کے صفحات پر مرقوم ہے۔ ’’بھتیجے ! ان لوگوں سے ہماری قرابتیں پہلے سے ہوتی    آئی ہیں اور اشراف کا میل اشراف سے ہی ہوتا ہے مگر تو تو ایک محتاج آدمی ہے‘‘۔(طبقاتِ ابن سعد، تاریخِ طبری، الاصابہ

مزید پڑھیں: حقیقت ہجرتِ مدینہ اورمنصوبۂ قتل وبستر کی کہانی بخاری کی روشنی میں

پتہ نہیں ہمارے مؤرّخین و اہلِ سیر نے کفالت کی ذمہ داری کا راگ ابو طالب کو کیسے الاپا ہے؟ جبکہ ابوطالب کی کفالت کے ثبوت میں تاریخی شہادت کی کمی ہے۔ جس نے اپنے کسی بیٹے کی پرورش خود نہ کی ہو اور ابو طالب کا یہی اشرافِ خاندانی داماد (ہبیرہ بن ابی وہب) نبوت کے بعد آنحضورﷺ کی شان میں ہجو بکتا رہا اور ہر غزوے میں نبی کریمﷺکے مقابل آتا رہا۔ آخر فتحِ مکہ کے روز نجران کی طرف بھاگ گیا اور بحالتِ کفر کہیں مر گیا۔

صحیح بخاری کتاب الاجارۃ (حدیث:۴۶۳) میں آپؐ نے فرمایا ’’اﷲ نے کوئی پیغمبر ایسا نہیں بھیجا کہ جس نے بکریاں نہ َ چرائی ہوں۔‘‘ صحابہ کرام نے دریافت کیا ’آپؐ نے بھی؟‘ آپؐ نے فرمایا : ’’نَعَمْ ! کُنْتُ اَرْعَاھَا عَلٰی قَرَارِیْطَ لِاَھْلِ مَکَّۃَ‘‘ ہاں! میں اہلِ مکہ کی چند قیراط تنخواہ پر بکریاں َ چراتا تھا۔


جن حضرات کے ذہنوں پر ابوطالب کی کفالت والی فرضی روایات چھائی ہوئی ہیں، اس حدیث کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ قراریط سے مراد سکّے نہیں بلکہ قراریط ایک جگہ کا نام ہے مگر امام بخاریؒ نے اسے اُجرت کے باب میں نقل کیا ہے۔ دوم اہلِ مکہ کی بکریاں چرانے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے جبکہ کفالت چچا ابوطالب کی تسلیم کرتے ہیں؟ …… پھر بھی اگر کوئی مصر ہے کہ آپؐ کی کفالت ابوطالب نے کی تو احقر کا جواب ادباً یہ ہوگا کہ ابوطالب آپؐ سے اہلِ مکہ کی بکریاں چرواکر اپنا اور اپنے اہل کا گزارہ کررہے تھے۔ اس طرح آپؐ کا ابوطالب پر احسان ہوگا نہ کہ آپؐ پر ابوطالب کا۔

مزید پڑھیں: کیاام المومنین حضرت خدیجہؓ حضور اکرمؐ سے عمر میں 15 سال بڑی تھیں؟

جائے غور یہ ہے کہ حضرت علیؓ کی پیدائش کے معدودے چند روز بعد آپؐ نے اپنے چچا حضرت عباسؓ سے فرمایا چچا! آپ تو جانتے ہیں کہ میرا چچا ابوطالب تنگدست ہے۔ کیوں نہ ہم اس سے ایک بیٹا لے کر اس بیٹے کی ذمہ داری اپنے سر لے لیں۔ حضرت عباسؓ نے جعفر کو اور آنحضرتﷺنے علیؓ کو اپنی کفالت میں لے لیا۔ طالب اور عقیل اس وقت جوان تھے اور آپؐ کی شادی حضرت خدیجہؓ سے ہوچکی تھی۔

کتاب سیرت بدرالدجیٰ : مولف – مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی سے ماخوذ ایک اقتباس

کتاب منگوانے کے لیے یہاں کلک کریں۔