تین طلاق اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقفUrdu Articles 

تین طلاق اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف

               روزنامہ خبریں, دہلی نے مورخہ 21  اکتوبرکو مولانا جلال الدین عمری صاحب سے موجودہ حالات کے تناظر میں خصوصی گفتگو کی، جس میں انہوں نے بہت صاف گوئی سے اپنا موقف رکھا۔ اسی کے ضمن میں جو تحریر میرے سامنے ہے اس سے ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔ دعوی بغیر دلیل دروغ بیانی ہے۔

               گفتگو کے اہم اقتباس پیش خدمت ہیں کہ تحت تحریر ہے کہ  ”قران میں صاف ہے کہ دو مرتبہ طلاق دے گا تو رجوع کی گنجائش ہے جب تیسری مرتبہ دے گا تو عورت الگ ہو جائیگی۔“  میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں قران میں ایسا نہیں لکھا ہوا ہے جبکہ حق انصاف یہ ہے کہ قران کی مذکورہ آیت سے طلاق کے تعین کی حد بندی کر دی گئی ہے اور ایام جہالت کی رسم کو باطل قرار دیا گیا ہے۔



               الطلاق مرتان فرما کرقران نے تین  طلاق کے رواج کو منسوخ کر دیا اور دو طلاقوں کی تعین کر حد بندی کر دی گئی ہے۔جبھی تو بعض روایتوں میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، آنحضرتؐ کو جب خبر ہوئی تو آپؐ نے فرمایا اَیَلْعَبُ بکتاب اللہ وانا بین اظہرکم (کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیلا جاتا ہے دراں حالیکہ میں تم لوگوں کے سامنے موجود ہوں)۔

مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی کا نکاح، طلاق اور حلالہ سے متعلق کتابچہ مفت ڈاونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

               دوسرا اقتباس یہ ہے کہ ”قران میں تین طلاق کا ذکر نہ ہونے کی بات غلط ہے“۔ یہ صرف دعویٰ ہے۔ قران نے علی الاعلان الطلاق مرتان فرمایا ہے، المیہ یہ ہے کہ ہر مجتہد ہر فقیہ پہلے روایات کو دیکھ  کر ایک رائے قائم کر لیتے اور پھر اس کے مطابق آیات سے مفہوم نکالتے ہیں، جہاں وہ مفہوم نہیں نکلتا وہاں اپنی طرف سے کچھ الفاظ  تفسیر میں بڑھا کر کہیں کی ضمیر کہیں پھیر کر کہیں کا عطف کہیں پر کر کے کسی نہ کسی طرح آیت کو روایات کا تابع کیا جاتا رہا اور آج تک کیا جا رہا ہے۔

               وجہ غلط کا لفظ وہی لکھ سکتا ہے جو ذہنی طور پر پہلے سے ذہن ساز ہو۔ قبل ازیں حضرت عثمانؓ، حضرت معاویہؓ، حضرت عمروبن العاص، حضرت مغیرہ بن شعبہؓ، حضرت ولید بن عقبہؓ وغیرہ کے لیے، غلط کا لفظ استعمال ہو چکا ہے۔



               تیسرا اقتباس ”قران کے پروسیس کو اپنانا مسنون ہے“۔ یہ جملہ تو اپنی حد پار کر گیا ہے۔ پتہ نہیں دانستہ یا نادانستہ لکھا گیا ہے یا موجودہ  حالات کے تناظر میں لکھا گیا ہے کہ قارئین کی دلچسپی کا سامان بنا رہے۔ خدارا دین کا اس طرح مزاق نہ اڑایا جائے کہ اصل دین مفقود ہو جائے! امت کے سنجیدہ مزاج، اعتدال پسند اور علمی گہرائی و گیرائی والوں کا اللہ جب یہ حال ہے تو عموم کا کیا پوچھنا؟  ”نیت ایک کی اور کلمات طلاق تین ہوں تو ایک ہی طلاق مانی جائیگی“! ہم اتنا لکھتے ہوئے طورمار لپیٹ لیتے ہیں جو کرے آپ کرشمہ ساز کرے کیونکہ فقہی بالاتری اور عددی اکثریت کی راہ ہموار ہے۔ چور دروازے کیوں کھلا رکھے ہوئے ہیں اس کو ہمیشہ کے لیے بند تو کر دیں۔ اندھیرا چھٹ چکا ہے اجالے میں ہم آپ جی رہے ہیں۔ جو وجود غیر معدوم ہے، جس چیز کا وجود ہی نہیں اس کی بات ہی کیوں؟

مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی

چیئرمین اطہر بلڈبینک، سولاپور

 روزنامہ خبریں میں چھپا آرٹیکل

Roznama Khabrein