ہند بنت عتبہ مشہور بنام جگر خوارہ ۔ کتنی حقیقت کتنا فسانہIslam Urdu Articles 

ہند بنت عتبہ مشہور بنام جگر خوارہ ۔ کتنی حقیقت کتنا فسانہ

غزوۂ بدر میں بڑے بڑے اشراف قریش کام آئے۔ ایسا صدمہ اس سے پہلے ان کو کبھی نہیں پہنچا تھا۔ سرداری اب ابوسفیان کی تھی۔ غزوۂ سویق میں ناکامی ہوئی تھی۔ اس لیے اب ایک زبردست حملے کی تیاری شروع کردی۔ تقریباً تین ہزار جنگجو اور نبردآزما بہادروں کا لشکر جنگِ بدر کے مقتول سردارانِ قریش کی لڑکیاں اور بیویاں بھی ہمراہ تھیں۔ شعراء بھی ساتھ تھے۔ ابوسفیان کی بیوی ہند بن عتبہ بھی تھی، جبیر بن مطعم کا حبشی غلام وحشی بھی تھا جس کی آزادی حضرت حمزہؓ کی شہادت پر موقوف تھی۔ سپہ سالارِ لشکر ابوسفیان، رسالے کی کمان خالد بن ولید، پرچم بنی عبد الدار کے ہاتھ میں دیا گیا۔ یہ تمام مکی لشکر جبلِ اُحد کے قریب مقام عینین میں آکر ٹھہرا۔ جمعہ کا دن، شوال ۳ ھ کا واقعہ ہے۔

آنحضرتﷺکو جب مدینہ میں قریش کے آنے کی خبر پہنچی تو آپ  نے صحابہ سے مشورہ طلب کیا۔ بہت ساری آراء آئیں۔ آخری رائے پر عمل کیا گیا۔ بعد نمازِ جمعہ ایک ہزار صحابہ کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔ امامت کے لیے حضرت ابن مکتوم کو مقرر کیا۔ درمیان راہ عبد اﷲبن اُبیّ تین سو منافقوں کے ساتھ جدا ہوگیا۔ عبد اﷲ بن عمرو بن حزام نے سمجھاکر روکنے کی کوشش کی لیکن نہ مانا۔ الغرض، آپ ؐ اُحد پہنچے اور وادئ احد کے کنارے اس طرح ٹھہرے کہ جبلِ اُحد کو پشت کی جانب کیا۔ بروز شنبہ ۱۵؍ شوال ۳ھ ؁ کو سات سو آدمی کے ساتھ میدانِ جنگ میں اُترے۔



پچاس تیر اندازوں کو عبد اﷲ بن جبیر انصاریؓ کی ماتحتی میں جبل رماۃ پر تعینات فرمایا اور ہدایات دیتے ہوئے فرمایا ہماری جیت ہو یا ہار، تم اپنی جگہ رہنا۔ اس کے بعد آپ ؐ نے لشکر کی ترتیب اس طور پر دی کہ میمنہ پر حضرت منذر بن عمروؓ  اور میسرہ پر حضرت زبیر بن العوامؓ  اور لواء حضرت مصعب بن عمیرؓ  کو دیا اور جنگ شروع ہوگئی۔ وحشی جو پتھر کی اوٹ میں چھپ کر انھیں قریب آنے کا موقع دینا چاہتا تھا، موقع پاتے ہی اپنا نیزہ اُچھال دیا۔ نیزہ ناف کے نیچے لگا۔ اس پار سے اس پار نکل گیا۔ حضرت حمزہؓ شہید ہوگئے۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ  آنحضرت  ؐ  کے ہم شکل تھے وہ بھی شہید ہوئے۔ مشہور ہوا کہ محمدؐ شہید ہوگئے۔ جیتی ہوئی جنگ ہار میں تبدیل ہوگئی۔ میدانِ جنگ کا نظارہ کچھ اور ہوگیا۔ ۶۵؍ انصار اور ۴؍ مہاجرین شہید ہوگئے۔ کافروں نے شہداء کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔

مزید پڑھیں: حقیقت ہجرتِ مدینہ اورمنصوبۂ قتل وبستر کی کہانی بخاری کی روشنی میں

ہند بنت عتبہ زوجہ ابو سفیان نے حضرت حمزہ کی لاش کا مثلہ کیا۔ سینہ چاک کرکے جگر نکالا، چبایا مگر نگل نہ سکی۔ اُگل دیا۔ جگر خوارہ مشہور ہوئی۔

آپ ؐ نے حضرت عمرؓ کی صاحبزادی حضرت حفصہؓ سے نکاح کیا۔ وراثت کا قانون بھی اسی سال نازل ہوا۔ قبل ازیں ذوی الارحام کا کوئی حصہ نہ تھا۔ مشرکہ کا نکاح مسلمان سے اب تک جائز تھا، اس کی بھی تحریم نازل ہوئی۔

:اشکالِ واردہ

عرب قبائل میں یہ عام رواج تھا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد فاتح قبیلہ مفتوح قبیلے کے مقتولین کی لاش کا مثلہ کرتے تھے۔ آپ ؐ نے سختی سے ممانعت فرمائی۔ ’’نَھَی رَسُوْلُ اللّٰہِ ا عَنِ الْمُثْلَۃِ‘‘ آپ ؐ نے مثلہ کرنے سے منع فرمایا۔ خود جنگ احد کے خاتمے کے بعد کفار مکہ نے مسلمانوں کی لاشوں کا مثلہ کیا۔ صحیح بخاری و مسلم میں مذکور ہے۔ مثلہ کسی خاص شخصیت کے ساتھ مخصوص نہ تھا۔



لیکن اس واقعہ کو داستانِ میر حمزہؓ کے نام منسوب کردیا گیا۔ حالانکہ لفظ میر ہندوستان کے سادات اور شیعہ اپنے لیے استعمال کرتے ہیں جیسے میر تقی میر، میر انیس وغیرہ۔ اسلام کا مسلّمہ اصول ہے، ’اِنَّ الْاِسْلَامَ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ‘ اسلام پہلے گناہوں کو منہدم کردیتا ہے۔ جبکہ کلی طور پر تمام اہلِ سیر حضرات یعنی قاری احمد پیلی بھیتی تاریخ مسلمانانِ عالم میں، عبد الحکیم نشتر جالندھری، پرویز صاحب معارف القرآن میں، اسلم جیراج پوری تاریخ الامت میں، علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی میں، حکیم عبد الرؤف داناپوری اصح السیر میں، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی تاریخِ اسلام میں، مولانا صفی الرحمان مبارکپوری عالمی اوّل انعام یافتہ کتاب الرحیق المختوم میں جگر خوارہ ہند بنت عقبہ کا ذکر کیا ہے۔ سوائے قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری کے (مؤلف رحمۃ للعالمین)۔

مزید پڑھیں: کیا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا نکاح 6 سال کی عمر میں ہوا تھا؟

غور طلب یہ ہے کہ سردارانِ قریش کی آٹھ خواتین جنگِ احد میں شریک ہوئی تھیں۔ علاوہ ازیں دیگر سبھوں نے لاشوں کا مثلہ کیا لیکن ہندؓ کے علاوہ کسی عورت کے بارے میں یہ ذکر نہیں۔ تمام مؤرّخین کو پورے لشکر میں صرف ایک ہند ہی نظر آئی۔ جبکہ جگرخوارہ کا لقب کسی مجوسی ایرانی کا عطا کردہ ہے کیونکہ اس کی زبان فارسی ہے۔

فتحِ مکہ کے بعد حضرت وحشیؓ آپ  ؐ  کی خدمتِ عالیہ میں حاضر ہوئے تو آپ  ؐ  نے اس سے فرمایا کیا تو اپنا چہرہ مجھ سے چھپا نہیں سکتا؟ پھر تازیست یہ نوبت نہ آئی۔ لیکن ہند بعض مؤرّخین کے بقول جنھوں نے وحشی کو حضرت حمزہؓ کے قتل پر آمادہ کیا، حضرت حمزہؓ کا مثلہ کیا، جگر چبایا، ان کے ساتھ آپ  ؐ  نے یہ سلوک نہیں فرمایا۔ چہ معنی دارد؟ جبیر بن مطعم جو حضرت وحشی کے آقا تھے، حضرت حمزہؓ کے قتل پر وحشی کی آزادی موقوف تھی، ان کے ساتھ بھی یہ سلوک نہیں کیا گیا بلکہ معاف کردیا گیا۔ اصل صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے اکثر سیرت نگار نے حضرت سفیانؓ کی زوجہ کا نام ’ہندہ‘ لکھا ہے جبکہ صحیح نام ’ہند‘ ہے۔



آمدم برسرِ مطلب، جنگِ اُحد میں جتنے صحابہ کرام شریک ہوئے اور جنگِ احد کے چشم دید گواہ بنے اور وہ حضرات جو بعد میں ایمان لائے کسی نے بھی نقل نہیں کیا ہے۔ ہاں حضرت حمزہؓ کے قاتل وحشیؓ نے جو خود بیان کیا ہے بخاری میں موجود ہے۔ اقبالِ جرم کا پتا چلتا ہے۔ وحشی کی آزادی حضرت ہند کے ہاتھ میں نہ تھی چونکہ وحشی جبیر بن مطعم کے غلام تھے۔

مزید پڑھیں: کیاام المومنین حضرت خدیجہؓ حضور اکرمؐ سے عمر میں 15 سال بڑی تھیں؟

ہمارے مؤرّخین نے حضرت ہند پر جو فردِ جرم عائد کیا ہے وہ تو قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔ دورانِ جنگ تو قتل ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آپ ؐ جب مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اور امن کا اعلان کیا، معدودے چند کے قتل کا حکم صادر فرمایا مگر جگر خوارہ کے گھر کو دار الامن قرار دیا۔ ’مَنْ دَخَلَ فِیْ بَیْتِ اَبِیْ سُفْیَانَ فَھُوَ آمِنٌ‘۔ کسی قسم کا تعرض ہے نہ اظہارِ بیزاری۔ فتحِ مکہ کے موقع پر اسلام لاتی ہیں اور آپ  ؐ  خواتینِ اسلام سے وعدہ لیتے ہیں کہ اپنی اولاد کو قتل نہ کروگی تو حضرت ہند فرماتی ہیں ’رَبَّیْنَاھُمْ صِغَارًا وَ قَتَلْتَھُمْ کُبَّارًا‘ ہم نے تو بچپن میں انھیں پرورش کیا تھا، بڑے ہونے کے بعد انھیں آپ نے قتل کیا۔ شوخی ملاحظہ کریں جگر خوارہ کی۔ یا رسول اﷲ! روئے زمین پر جتنے خیمے والے بستے ہیں ان میں آپ  ؐ  سے زیادہ میری نظروں میں کوئی ذلیل نہ تھا لیکن اب روئے زمین کے تمام بسنے والوں میں مجھے آپؐ  سے زیادہ کوئی عزیز نہیں

رحمتِ عالم کا جواب سماعت فرمائیں جس پر ہزاروں زندگیاں قربان کی جاسکتی ہیں۔ آپ ؐ  ارشاد فرماتے ہیں ’وَ اَیْضاً وَ الَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ‘ (بخاری) اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میرا بھی یہی حال ہے۔ بے پناہ حضرت حمزہؓ سے محبت کرنے والے کا یہ جواب ہے۔ اس لیے تو امام بخاریؒ نے اپنی بخاری شریف میں ’باب فضلِ ہند بنت عتبہ‘ کی سرخی قائم کی ہے۔

کتاب سیرت بدرالدجیٰ : مولف – مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی سے ماخوذ ایک اقتباس

کتاب منگوانے کے لیے یہاں کلک کریں۔