حقیقت ہجرتِ مدینہ اورمنصوبۂ قتل وبستر کی کہانی بخاری کی روشنی میںIslam Urdu Articles 

حقیقت ہجرتِ مدینہ اورمنصوبۂ قتل وبستر کی کہانی بخاری کی روشنی میں

علامہ شبلی نعمانیؒ نے اپنی سیرت النبیؐ میں دعویٰ کیا ہے کہ ہجرت کا واقعہ صحیح بخاری میں بالتفصیل موجود ہے۔ اﷲ کو حاضر و ناظر مان کر، اور اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ علامہ شبلیؒ نے اپنی کتاب سیرت النبیؐ میں ہجرتِ مدینہ کے بارے میں جو کچھ بیان کیا ہے، بخاری میں موجود نہیں۔ اب یہ حقیر فقیر سراپا تقصیر ہجرتِ مدینہ کے متعلق بخاری شریف کے حوالے سے نقل من و عن پیش کررہا ہے۔ افسوس تو اس پر ہے کہ بنام اصح السیر عبد الرؤف داناپوریؒ ، عالمی اوّل انعام یافتہ الرحیق المختوم صفی الرحمان مبارکپوریؒ ، تاریخِ اسلام اکبر شاہ نجیب آبادیؒ ، رحمۃ للعالمین قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوریؒ ، سیرتِ مصطفی ادریس کاندھلویؒ وغیرہم یہ جتنے بھی اصحابِ سیر ہیں سبھوں نے واقدی، طبری، ابنِ اسحاق، سلمۃ الابرش وغیرہ کی تقلید کی جبکہ صحیح حدیثیں اس واقعے کی نشانِ راہ ہیں۔

واقعہ ہجر ت مدینہ صحیح بخاری سے

جب نبی ؐ کے قتل کی مجرمانہ قرارداد طے ہوچکی تو حضرت جبرئیلؑ اپنے رب کی وحی لے کر آپ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو قریش کی سازش سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ ؐ کو یہاں سے روانگی کی اجازت دے دی ہے۔ جن لوگوں نے حبشہ ہجرت کی تھی ان میں سے بہت سے افراد مدینہ ہجرت کرگئے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے بھی مدینہ منورہ جانے کی تیاری کی لیکن رسولؐ نے ان سے فرمایا تم ابھی ٹھہرو کیونکہ مجھے بھی اجازت ملنے کی اُمید ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا، میرے ماں باپ قربان! کیا آپ کو بھی ہجرت کی اُمید ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا ہاں۔ پس حضور ؐ کی رفاقت کی خاطر رک گئے۔ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس دو اونٹنیاں تھیں۔ انھیں چار مہینوں تک کیکر کے پتے کھلاتے رہے (یعنی ہجرت کے لیے آپ ؐ نے جو خواب دیکھا تھا اس کے بعد آپ چار ماہ تک مکہ میں مقیم رہے اور ابوبکر ؓ کو بھی روکے رکھا)۔


اُمّ المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں ایک روز ہم سب گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عین دوپہر کے وقت رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ گھر کے کسی فرد نے دور سے دیکھ کر کہا کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے تشریف لا رہے ہیں۔ حالانکہ ایسے وقت رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف نہیں لایا کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان! اﷲ کی قسم آپ جو ایسے وقت تشریف لا رہے ہیں تو ضرور کوئی خاص بات ہے۔ یہ فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ ؐ نے آکر اجازت طلب فرمائی۔ آپ ؐ کو اجازت دے دی گئی۔ آپ ؐ اندر داخل ہوئے اور حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا اپنے پاس سے سب کو ہٹا دو۔ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا اے اﷲ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ تو آپ ؐ کے اپنے گھر والے ہیں۔ آپ ؐ نے فرمایا مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا مجھے ساتھ چلنے کی اجازت ہے۔ رسول اﷲ ؐ نے فرمایا ’ہاں۔‘ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان، ان دونوں اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی آپ لے لیں۔ آپ ؐ نے فرمایا ہم قیمتاً لیں گے۔

مزید پڑھیں: کیا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا نکاح 6 سال کی عمر میں ہوا تھا؟

اُمّ المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں ہم نے جلدی جلدی سامانِ سفر تیار کیا۔ کچھ کھانا چمڑے کے ایک تھیلے میں رکھ دیا۔ حضرت اسماء نے حضرت ابوبکر ؓ سے کہا میرے پاس تھیلا باندھنے کے لیے سوائے میرے ازاربند کے اور کچھ نہیں ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا اس کے دو ٹکڑے کرلو۔ حضرت اسماء نے اپنے ازاربند کے دو ٹکڑے کیے۔ ایک سے مشکیزہ اور تھیلے کا منہ باندھ دیا اور دوسرے سے اپنے ازار بند کو باندھ لیا۔ اسی وجہ سے ان کا لقب ذات النطاقتین (دو ازاربند والی) پڑ گیا۔ پھر رسول اﷲ ؐ اور حضرت ابوبکر ؓ اپنی اپنی سواریوں پر روانہ ہوگئے اور غارِ ثور میں جاکر چھپ گئے۔ ’ثُمَّ لَحِقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ وَ اَبُوْبَکْرٍ بِغَارٍ فِیْ جَبَلِ ثَوْرٍ‘ پھر رسول اﷲ ؐ اور ابوبکر ؓ جبلِ ثور کے غار میں پہنچ گئے۔

یہ عبارت اس امر کی شہادت دے رہی ہے کہ ہجرت کی ابتدا حضرت ابوبکر ؓ کے گھر سے ہوئی، عین دوپہر کے وقت ہوئی، اس راز میں ابوبکرؓ کے گھرانے کے علاوہ کوئی اور فرد بشر شریک نہیں تھا۔ ادھر حضور ؐ کو ہجرت کا حکم ہوا اور فوراً ابوبکرؓ کے گھر تشریف لے گئے اور ہجرت فرمائی۔ تیاری پہلے سے تھی۔

حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی بقیہ حدیث

 رسول اﷲ ؐ اور حضرت ابوبکر ؓ تین رات اسی غار میں چھپے رہے۔ عبد اﷲ بن ابوبکرؓ ان دنوں نوجوان اور ہوشیار تھے۔ یہ رات دونوں حضرات کے پاس گزارتے اور علی الصبح مکہ مکرمہ میں قریش کے پاس پہنچ جاتے گویا رات یہیں گزاری ہے۔ پس وہ قریش سے جو بھی مکر و فریب کی بات سنتے تو ان دونوں حضرات کو اندھیرا ہونے پر بتا دیتے تھے۔


حضرت ابوبکر ؓ کے غلام حضرت عامر بن فہیرہ غار کے قریب بکریاں چرایا کرتے تھے۔ جب کچھ رات گزر جاتی تو وہ بکریاں ان کے پاس لے آتے اور یہ دونوں حضرات بکریوں کا دودھ پی کر آرام سے رات گزارتے۔ اسی طرح عامر بن فہیرہ منہ اندھیرے بکریوں کو ہانک کر لے جایا کرتے تھے۔ تینوں رات میں عامر بن فہیرہ نے ایسا ہی کیا۔

رسول اﷲ ؐ اور حضرت ابوبکر ؓ نے قبیلۂ بنی دَیل کے ایک شخص کو جو بنی عبد بن عدی سے تھا، راستہ بتانے کے لیے اُجرت پر رکھ لیا۔ وہ راستہ بتانے میں بڑا ماہر تھا۔ یہ شخص بنی عاص بن وائل سہمی کا حلیف اور کفارِ قریش کے دین پر تھا۔ رسول اﷲ ؐ اور حضرت ابوبکر ؓ نے اسے اپنا امین بنالیا۔ (غارِ ثور پہنچ کر) دونوں اونٹنیاں اس کے حوالے کردیں اور تین رات کے بعد سواریوں کو غارِ ثور پر لانے کا وعدہ لیا۔ تیسرے روز یہ دونوں حضرات اور ان کے ساتھ عامر بن فہیرہ اور راہبر چلے اور ساحل کا رُخ اختیار کیا۔

یہاں درمیان میں امام زہری مکہ کے حالات بیان کرتے ہیں، کیونکہ یہ حالات انھوں نے عروہ سے نہیں سنے تھے اور نہ ان حالات کا حضرت عائشہ کی حدیث میں ذکر تھا۔ اس لیے امام زہری دوسرے حضرات سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پھر سراقہ بن جعثم کا تعاقب شروع ہوا۔ سراقہ کا گھوڑا بار بار زمین میں دھنسنے کی وجہ سے امن نامے کا طالب ہوا اور اسی نے کہا کہ آپ جو پسند فرمائیں مجھے حکم دیں، تعمیل کروں گا۔ آپ ؐ نے فرمایا تم ابھی یہیں ٹھہرو۔ سراقہؓ نے عرض کیا میرے لیے ایک پروانۂ امن لکھ دیا جائے۔ آپ ؐ نے حضرت عامر بن فہیرہؓ کو حکم دیا۔ انھوں نے چمڑے کے ٹکڑے پر تحریرِ امن لکھ دی۔


امام زہری پھر حضرت عائشہؓ کی روایت کی طرف لوٹتے ہیں۔ آگے کی تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ مجھ سے عروہ بن الزبیر نے بیان کیا کہ اثنائے راہ میں رسول اﷲ ؐ کو حضرت زبیر ملے جو مسلمانوں کے ایک قافلے کے ساتھ ملکِ شام سے تجارت کرکے آرہے تھے ۔ زبیر آپ ؐ کے پھوپھی زاد بھائی اور ابوبکر ؓ کے داماد ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ کی بڑی بیٹی اَسماء جو ذات النطاقتین کے نام سے جانی جاتی تھیں، ان کے نکاح میں تھیں۔ اس رشتے سے ابوبکر عروہ کے نانا اور اُمّ المومنین خالہ ہیں۔ حضرت زبیر نے رسول ﷲ ؐ اور حضرت ابوبکر ؓ کو پہننے کے لیے سفید کپڑے دیے۔

ادھر مدینہ منورہ کے مسلمانوں نے رسول اﷲ ؐ کے مکہ معظمہ سے نکلنے کی خبر سن لی تھی۔ پس وہ روزانہ صبح کے وقت آپ ؐ کا استقبال کرنے کے لیے مقام حرہ تک آکر انتظار کرتے رہتے اور دوپہر گرم ہونے پر واپس لوٹتے تھے۔

مزید پڑھیں: کیاام المومنین حضرت خدیجہؓ حضور اکرمؐ سے عمر میں 15 سال بڑی تھیں؟

ایک دن جب وہ آپ ؐ کا طویل انتظار کرکے واپس لوٹ کر اپنے گھروں میں پہنچے تو کسی ضرورت سے ایک یہودی کسی ٹیلے پر چڑھا اور اس نے دیکھا کہ رسول ؐ اور آپ کے ساتھی سفید کپڑوں میں ملبوس آرہے ہیں۔ پس یہودی بے اختیار بلند آواز سے چلایا اے گروہِ عرب! تمھارا مقصود آ پہنچا، جس کا تم انتظار کررہے تھے۔ یہ سنتے ہی مسلمان ہتھیار لے کر دوڑ پڑے اور مقامِ حرہ کے پیچھے استقبال کیا۔ وہاں سے رسول ؐ داہنی طرف مڑ گئے یہاں تک کہ بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں جا اُترے۔ یہ دو شنبہ (پیر) کا دن اور ربیع الاوّل کا مہینہ تھا۔ رسول ؐ چپ چاپ بیٹھ گئے اور حضرت ابوبکر ؓ لوگوں سے مخاطب ہونے کے لیے کھڑے رہے۔ پس انصار میں سے جو آتا ، جس نے رسول ؐ کی زیارت نہ کی ہوتی وہ حضرت ابوبکر ؓ کو سلام کرتا، یہاں تک کہ رسول ؐ پر دھوپ آگئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے آپ ؐ کے اوپر اپنی چادر تان لی اور سایہ کیے رکھا تو لوگوں نے پہچانا کہ رسول تو یہ ہیں۔

رسول ؐ نے وہاں چودہ دن قیام فرمایا اور وہاں آپ ؐ نے ایک مسجد کی بنیاد رکھی جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے (یعنی مسجدِ قبا) اور اسی مسجد میں رسول ؐ نماز ادا فرماتے رہے۔

پھر آپ ؐ اونٹنی پر سوار ہوئے۔ قبیلہ بنو سالم نے اونٹنی کی مہار پکڑ رکھی تھی۔ تمام انصار و مہاجرین ناقہ کے ارد گرد چل رہے تھے۔ ہر قبیلے کی تمنا تھی کہ آپ ؐ کا قیام میرے یہاں ہو۔ قبیلہ بنو ساعدہ کے سردار سعد بن عبادہ نے روکنا چاہا تو آپ ؐ نے فرمایا، ’دُعُوْھَا فَاِنَّھَا مَأْمُوْرَۃٌ‘ (اسے چھوڑ دو، اس کو حکم ملا ہوا ہے۔) یہاں تک کہ آپ ؐس جگہ پہنچے جہاں مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی ہے۔ اس جگہ کھجوروں کا کھلیان تھا اور وہ اسعد بن زرارہ کے دو یتیم بچوں یعنی سہل اور سہیل کی زمین تھی۔ جب آپ ؐ کی اونٹنی اس جگہ بیٹھ گئی تو رسول اﷲ ؐ نے فرمایا کہ انشاء اﷲ تعالیٰ ہماری منزل یہی ہوگی۔


الغرض، آپ ؐ اپنی ننھیال میں حضرت ایوب انصاری ؓ کے مکان کی جانب اُتر گئے۔ اور ان کے گھر والوں سے باتیں کرتے رہے۔ گیارہ مہینے اور چند روز ابو ایوب کے مکان میں رہے۔ یہ وہی ابو ایوب انصاری ؓ ہیں جن کی قبر قسطنطنیہ میں موجود ہے۔ ۴۸ھ ؁ میں خلافتِ امیر معاویہ کے عہد میں محاصرۂ قسطنطنیہ کے وقت شہید ہوئے۔

قارئین احباب سے مؤدّبانہ گزارش ہے کہ ہم نے ہجرت کے واقعے کو بخاری شریف سے من و عن تحریر کیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ ہجرت کے تمام واقعے میں از ابتدا تا انتہا کوئی کردار ایسا نہیں جس کا تعلق حضرت ابوبکر ؓ کی ذات سے نہ ہو۔ رفیقِ سفر گر ابوبکر ہیں تو رات کو غار میں ساتھ سونے والے ابوبکر کے بیٹے عبد اﷲ ہیں۔ بکریوں کا دودھ پلانے والے، راہ کے ہم سفر اور پہلا پروانۂ امن لکھنے والے عامر بن فہیرہ ہیں جو ابوبکرؓ کے غلام ہیں۔ سامان اور زادِ راہ تیار کرنے والیاں ابوبکر کی بیٹیاں حضرت عائشہ اور اسماء ہیں۔ راہ میں کپڑے پیش کرنے والے زبیر ہیں جو ابوبکر ؓ کے داماد ہیں۔ مشورے ہوتے ہیں تو ابوبکر سے، راز کی بات بتاتے ہیں تو ابوبکر کو، یارِ غار ہیں تو ابوبکر، صاحب ہیں تو ابوبکر، ہجرت فرماتے ہیں تو ابوبکر کے گھر سے، اور سواری استعمال کرتے ہیں تو ابوبکر کی …. آپ ؐ کو اس دنیا میں کسی پر کلی اعتماد تھا تو وہ صرف ابوبکر کی ذات تھی یا ان کے گھر کے افراد تھے۔ رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین۔

تصدیقِ نبویؐ

آپ ؐ نے فرمایا کہ سب لوگوں سے زیادہ جس نے اپنی صحبت اور مال کے ساتھ مجھ پر احسان کیا وہ ابوبکرؓ ہیں۔ اگر میں اپنی اُمت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکرؓ کو بناتا۔ اور آپ ؐ نے حکم صادر فرمایا کہ سوائے ابوبکر کے مسجدِ نبوی میں کسی کی کھڑکی کھلی نہ رہے۔ (بخاری

شدتِ مرض کی وجہ سے آپ ؐ مسجد میں جانے سے معذور ہوگئے تو حضرت بلالؓ نے حجرے کے پاس آکر عرض کیا کہ اذان ہوچکی، نماز کا وقت آگیا۔ لوگ مسجد میں منتظر ہیں، کیا حکم ہوتا ہے؟ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں اس وقت حجرے میں موجود تھا، نہ غائب نہ بیمار، مگر آپ ؐ نے حضرت بلال سے فرمایا ’مُرُوْا اَبَابَکْرٍ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ‘ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حضرت ابوبکر ؓ اس وقت مسجد میں نہ تھے۔ لوگوں نے حضرت عمر ؓ سے کہا حضرت ابوبکر ؓ تو نہیں ہیں، آپ نماز پڑھائیں۔ آنحضرت ؐ نے آواز سن کر حجرے سے سر نکال کر بآوازِ بلند فرمایا اﷲ اور اﷲ کے رسول کو ان کے سوا کوئی گوارہ نہیں۔ ابوبکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں۔ بعض روایتوں کی بنا پر آٹھ شبانہ یوم کی نمازیں حضرت ابوبکر ؓ نے پڑھائیں۔


حضرت علیؓ نے اپنے عہدِ خلافت کے زمانۂ کوفہ میں فرمایا تھا، جب پوچھنے والے نے پوچھا تھا کہ رسول اﷲ ؐ کے بعد حضرت ابوبکر ؓ کیوں خلیفہ ہوگئے تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ رسول اﷲ ؐ نے جب حضرت ابوبکر ؓ کو ہمارا امام بناکر ہم لوگوں کے دین کے لیے منتخب کردیا تو جس کو ہمارے رسولؐ نے ہمارے دین کے لیے پسند کرلیا تو ہم لوگوں نے ان کو اپنی دنیا کے لیے بھی پسند کرلیا۔

جس اعلیٰ سند کے ساتھ امام بخاریؒ نے ہجرت النبیؐ کو نقل فرمایا ہے اس پر کتبِ تاریخ کی تمام سندات کو قربان کیا جاسکتا ہے۔ سبائی، مجوسی جو دشمنانِ اسلام ہیں، نے حضرت ابوبکر ؓ کی فضیلت پر ڈاکہ ڈالنے کی سعیِ لاحاصل کی ہے …. منصوبۂ قتل اور بستر کی کہانی وضع کرکے۔

کتاب سیرت بدرالدجیٰ : مولف – مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی سے ماخوذ ایک اقتباس

کتاب منگوانے کے لیے یہاں کلک کریں۔