کیاام المومنین حضرت خدیجہؓ حضور اکرمؐ سے عمر میں 15 سال بڑی تھیں؟Islam Urdu Articles 

کیاام المومنین حضرت خدیجہؓ حضور اکرمؐ سے عمر میں 15 سال بڑی تھیں؟

حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا جو طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں، فاطمہ بنت زاہدہ کی بیٹی تھیں۔ والد خویلد بن اسعد بن عبدی العزّیٰ تھے۔ قبیلہ میں ممتاز تھے۔ باپ کے سلب ماں کے بطن سے حضرت خدیجہ پیدا ہوئیں۔ پہلے شوہر ابوہالہ بن زرارہ تمیمی تھے۔ ان سے دو لڑکے ہند اور حارث (ہالہ بقول کچھ سیرت نگار)پیدا ہوئے۔ ابوہالہ کے انتقال کے بعد عتیق بن عائذ مخزومی سے نکاح ہوا۔ ان سے ایک لڑکی ’ہند‘ پیدا ہوئی۔ عتیق کے انتقال کے بعد مکہ میں آنحضرتؐ نے نبوت سے قبل درخواستِ حضرت خدیجہؓ کی بنا پر 25 سال کی عمر میں نکاح فرمایا۔

جب تک حضرت خدیجہ زندہ رہیں آپؐ نے دوسرا نکاح نہیں فرمایا۔ حضرت خدیجہ کا انتقال ہجرت سے تین سال پہلے ہوا۔ چھ اولادیں؛ دو صاحبزادے، چار صاحبزادیاں ہوئیں۔ صاحبزادے بچپن میں انتقال کرگئے۔ صاحبزادیاں زینب، رقیہ، اُمّ کلثوم اور فاطمہ حیات رہیں۔ حضرت زینب کی شادی ہجرت سے پہلے پھوپھی زاد بھائی بقول صفی الرحمن مبارک پوری صاحبِ الرحیق المختوم اور بقول سیّد شبلی نعمانی صاحبِ سیرت النبیؐ خالہ زاد بھائی حضرت ابوالعاص بن ربیع بن لقیط سے ہوئی۔ ابوالعاص اپنے آبائی دین پر تھے۔ جنگِ بدر میں جب گرفتار ہوکر آئے تو زینب نے مکہ سے فدیہ بھیجا جس میں حضرت خدیجہؓ کا دیا ہوا ہار تھا۔ وہ آپؐ کی سفارش سے واپس کیا گیا اور ابوالعاص بلا فدیہ کے چھوڑ دیے گئے لیکن ان سے یہ عہد لیا گیا کہ مکہ پہنچ کر زینب کو مدینہ آنے کی اجازت دیں گے۔ چنانچہ ابوالعاص نے ایسا ہی کیا۔



فتحِ مکہ سے قبل وہ شام تجارت کے لیے گئے۔ شام سے واپسی میں مال ان کے مالکوں کے حوالے کرکے مدینہ میں آکر مسلمان ہوئے۔ آپؐ نے بلا نکاحِ جدید ز ینب کو حضرت ابوالعاص کے یہاں رخصت کردیا۔ رقیہ اور اُمّ کلثوم یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کے نکاح میں آئیں۔ اور حضرت فاطمہ کی شادی بدر، احد کے درمیانی عرصے میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے ہوئی اور ان کے بطن سے حسن، حسین، زینب اور کلثوم پیدا ہوئے۔ حضرت فاطمہؓ کے سوا کسی کی نسل نہ چلی۔

حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد آپؐ نے متعدد نکاح کیے جن کی کل تعداد گیارہ ہے۔ جن میں سے آپؐ کی وفات کے وقت 9 بیویاں باحیات تھیں۔ دو کا انتقال یعنی حضرت خدیجہ اور اُمّ المساکین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اﷲ عنہما کا آپؐ کی زندگی میں ہوا۔

:نوٹ

یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس وقت تک نکاح کی کوئی حد متعین نہیں کی گئی تھی اور جس وقت تحدید کی آیت نازل ہوئی کہ چار سے زائد بیک وقت نہیں رکھ سکتے، اس وقت ازواج النبیؐ اُمہات الاُمت قرار پاچکی تھیں۔ ان کا نکاح کسی دوسرے کے ساتھ حلال نہ تھا، اس لیے آپؐ کو خصوصیت کے ساتھ اجازت دی گئی۔ اور آئندہ نکاح نہ کرنے کی ممانعت کردی گئی۔

:اشکال

اکثر سیرت نگار نے حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کی عمرآپؐ سے نکاح کے وقت 40 سال لکھی ہے اور 65 سال کی عمر میں انتقال ہوا ہے۔ حضرت خدیجہ کے انتقال کے وقت آپؐ کی عمر 50 سال تھی۔



یہاں یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہ کو جوانی میں ہالہ سے دو لڑکے اور دوسرے شوہر عتیق سے ایک لڑکی پیدا ہوئی اور بڑھاپے میں چھ بچے ہوئے۔ اسی کا خیال کرتے ہوئے سبائی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ (زینب، رقیہ اور اُمّ کلثوم آپؐ کی صاحبزادیاں نہیں) لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت خدیجہ کی عمر میں اختلاف ہے۔

مؤرّخین کے مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول چالیس سال ہے، ایک قول 35 سال ، ایک قول تیس سال۔ مغلتائی نے 28 سال لکھا ہے۔ ایک قول 27 سال او رایک قول صرف 25 سال کا ہے۔ ہمارے مؤرّخین نے صرف 40 کو اخذ کیا، بقیہ کو مدفون کردیا۔ جبکہ اس کی حیثیت تاریخ کی تھی۔

مزید پڑھیں: کیا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا نکاح 6 سال کی عمر میں ہوا تھا؟

’وَ نَقَلَ الْبَیْھَقِی عَنِ الْحَاکِمِ اَنَّہُ کَانَ عُمَرُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ حِیْنَ تَزَوَّجَ خَدِیْجَۃَ خَمْسًا وَّ عِشْرِیْنَ سَنَۃً وَ کَانَ عُمْرُھَا اِذْ ذَاکَ خَمْسًا وَ ثَلَاثِیْنَ وَ قِیْل خَمْسًا وَ عِشْرِیْنَ سَنَۃً۔‘ (البدایۃ و النھایۃ

بیہقی نے حاکم سے نقل کیا ہے کہ جب رسول ﷲ نے خدیجہ سے نکاح فرمایا تو آپؐ کی عمر پچیس سال تھی اور حضرت خدیجہ کی عمر پینتیس سال تھی۔ اور ایک قول یہ ہے کہ پچیس سال تھی۔



دوسرے مقام پر حافظ ابنِ کثیر حضرت خدیجہ کی وفات کے وقت کل عمر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’وَ بَلَغَتْ خَدِیْجَۃُ خَمْسًا وَ سِتِّیْنَ وَ یُقَالُ خَمْسِیْنَ وَ ھُوَ اَصَحُّ۔‘ حضرت خدیجہ کی عمر پینسٹھ سال ہوئی اور ایک قول ہے کہ پچاس سال ہوئی اور یہی صحیح ہے۔ (البدایہ و النھایہ

تمام محدثین و مؤرّخین متفق ہیں کہ حضرت خدیجہ آپؐ کے نکاح میں پچیس سال رہیں اور نبوت کے دسویں سال آپ کا انتقال ہوا۔ حافظ ابنِ کثیر نے ایک لفظ میں یہ جتلا دیا کہ بقیہ اقوال غلط ہیں اور یہ ثابت کردیا کہ نکاح کے وقت حضرت خدیجہ کی عمر صرف پچیس سال تھی۔

کتاب سیرت بدرالدجیٰ : مولف – مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی سے ماخوذ ایک اقتباس

کتاب منگوانے کے لیے یہاں کلک کریں۔