کیا یزید لائق ملامت ہے؟Islam Urdu Articles 

کیا یزید لائق ملامت ہے؟

محرم کے ایک معنی تعظیم کرنے کے بھی آتے ہیں اس اعتبار سے محرم کے معنی معظم (عظمت والا) ہوئے۔باوجود گوناگوں خصو صیات کے اب عوام و خواص اس ماہ محرم کی نسبت صرف شہادت حسینؓ کے حوالے سے یاد رکھتے ہیں اور بین، نوحہ و ماتم کو روا رکھتے ہیں۔ جبکہ خلیفہ چہارم داماد رسول سیدنا علی المرتضیٰؓ نے آپؐ کی وفات پر پیشانی مبارک کو بوسہ دیتے ہوئے کہا تھا۔ اگر آپ نے ہمیں صبر کرنے کا حکم نہ فرمایاہوتااور ہمیں رونے پیٹنے سے نہ روکا ہوتاتو آج ہم آنسوں کے دریا بہا دیتے (اور دنیا دیکھ لیتی کہ کسی نبی کے ماننے والے اس کی وفات پر کیسے روتے ہیں)۔ (نہج البلاغہ:491

جب ہمیں اپنے نبیؐ کی رحلت پر نوحہ و ماتم منانے کا حکم نہیں ہے تو کسی اور کے انتقال پر کیسے ہوگا۔ حضرت حسینؓ کی شہادت سے ہمارے دل غم سے بھرے ہیں مگر ان حالات میں بھی دیانت اور انصاف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بغض و عناد کی بنیاد پر کسی کو مورد الزام ٹھہرانا کس حد تک صحیح ہے۔


وفات حسن670 ء کے بعد یزید کوولیعہد بنانے کا خیال سب سے پہلے مغیرہ بن شعبہؓ کو ہوا خصوصاً اس لئے کہ وہ کوفہ کے والی تھے اور مفسدین کوفہ سے خوب واقف تھے۔ مگر حضرت معاویہؓ نے صرف مغیرہ بن شعبہ کے مشورے کو قبول نہیں کیا جب تک اکابر صحابہؓ اور امہات المومنینؓ نے اس کی تائید نہیں کی اور دیار و امصار سے صحابہ و اہل الرائے نے وفد کی صورت میں آ کر حضرت معاویہؓ کو یزید کی ولیعہدی کا مشورہ نہ دیا۔

مزید پڑھیں: حقیقت طلاق اور حلالہ سے کھلواڑ

حضرت معاویہؓ کا یزید کی ولیعہدی کے لئے مدینے جانا اور چند اصاغر صحابہ سے پوچھنا یعنی حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکرؓ و حضرت عبداللہ بن عمرؓ و حضرت عبداللہ بن عباسؓ و حضرت عبداللہ بن زبیرؓ بعض روایات میں حضرت عبداللہ بن جعفرؓ کا بھی نام ہے، بس انہیں لوگوں سے پوچھنا اور ان سب کے اختلافات کا جوذکر کیا ہے محض جھوٹ اور افتراء و بہتان ہے۔ راوی کے جھوٹ کا پتہ اسی سے ملتا ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکرؓ اس واقعہ سے پہلے666 ء میں وفات پا چکے تھے جبکہ یزید کی خلافت کا دور 680 ء سے شروع ہوتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ ایک طرف سے غلو اور دوسری طرف سے تعصب و عناد رکھ کر واقعات لکھے جائیں گے اور سمجھے جائیں گے تو حق و باطل کی تمیز کس طرح ممکن ہے۔ حبّ علیؓ کے لئے بغض معاویہؓ اور حبّ حسینؓ کے لئے بغض یزید ضروری تسلیم کر لی گئی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بغض معاویہؓ و یزید اب لوگوں کے ایمانیات میں داخل ہے اور اس کے لئے حبّ علی و حبّ حسینؓ کو بہانہ بنایا گیا ہے۔ جو شخص تاریخ اسلام لکھنے بیٹھتا ہے پہلے سے بغض معاویہؓ و یزید و بغض بنی امیہ کا فاسد مواد اپنے دل میں بھر لیتا ہے اس کے بعد قلم اٹھاتا ہے۔


المختصر یہ کہ ابن سعدؓ حضرت حسینؓ کے قرابت مند تھے، ان کے والد حضرت سعد بن وقاصؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں تھے توعمر بن سعد حضرت حسینؓ کے ماموں ہوئے۔ مورخین نے لکھا ہے کہ ان دونوں میں جو باتیں ہوئی اس میں حضرت حسینؓ نے تین باتیں پیش کیں۔ یا تو مجھکو واپس جانے دیا جائے یا ترکوں سے جہاد کرنے کی اجازت دی جائے یا یزید کے پاس دمشق جانے کی اجازت دی جائے۔

پہلی دو باتیں لغو ہیں۔ اس لئے کہ واپسی کی اجازت بھی مل جائے تو اس خروج کے بعد بغیر بیعت کے ان کو چھوڑا نہیں جا سکتا تھا۔ یہاں ابن زیاد کے ہاتھ پر بیعت کر لیں ورنہ عامل مکہ کے ہاتھ پر بیعت کرنی ہوگی،مدینہ جائیں تو عامل مدینہ کے ہاتھ پر بیعت کرنی ہوگی۔ بہتر یہ ہے کہ امیرالمومنین کے ہاتھ پر بلاواسطہ بیعت کر لیں۔ ترکوں سے جہاد کی اجازت توامیرالمومنین ہی دے سکتے ہیں اور بغیر بیعت کے امیرالمومنین سے اسکی اجازت کس طرح مل سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا نکاح 6 سال کی عمر میں ہوا تھا؟

حضرت حسینؓ نے خود فرمایا سیرنی الیٰ دمشق فاضع فی یدامیرالمومنین ترجمہ ۔ مجھکو دمشق کی طرف روانہ کر دو کہ میں اپنا ہاتھ امیرالمومنین کے ہاتھ میں دیدوں۔ (ناسخ التواریخ) ابن زیاد نے مسرت کا اظہار کیا اور قُبِلتُ کہا۔ (طبری

حضرت علی بن حسینؓ زین العابدین سے واقعہ حرّہ کے بعد جب مسلم بن عقبہؒ نے ملاقات کی اور کہا کہ انّ امیرالمومنین اوصانی بک خیرا یعنی امیرالمومنین (یزید) نے مجھ کو آپ کے ساتھ بہتر برتاؤ کا حکم دیا ہے اس کے جواب میں حضرت زین العابدین نے کہا و صلی اللہ علیٰ امیرالمومنین یعنی اللہ رحمت نازل فرمائے امیرالمومنین پر۔ (طبقات ابن سعد و بلاذری


حضرت مسلم بن عقبہ کے مظالم جو ہمارے مورخین نے بیان کئے ہیں اگر یہ صحیح ہوتا تو کیا حضرت زین العابدین اس خندہ پیشانی کے ساتھ حضرت مسلم بن عقبہ جو مشہور صحابی اور سالار ٖفوج تھے سے مل سکتے تھے اور ان کی غیرت ایمانی کبھی اس کو قبول کرتی ؟

یحیٰ بن معینؒ فرماتے ہیں کہ حضرت حسینؓ کا قاتل شریک بن عبداللہ کا دادا سنان بن انس ہے۔ یہ سنان بن انس وہ شخص ہے جو حضرت حسینؓ کولینے مکہ گیا تھا۔

اصل واقعہ یہ ہے کہ جو شخص غلو و تعصب کا مریض ہوگا وہ کبھی حق و باطل میں تمیز نہیں کر سکے گااور انصاف و دیانت کی روشنی نہ اس کی آنکھوں میں ہوگی نہ دل میں۔ اور وہ ہمیشہ کارثواب سمجھ کر بڑی دلیری کے ساتھ جھوٹ بولے گا اور باطل کو حق اور حق کو باطل کہتا رہیگا۔

المختصر سلطان المحققین شیخ یحیی شرف الدین منیریؒ فرماتے ہیں کہ کمتر کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے سے برتر پر لعنت کرے اور یزید صحابہ و تابعین میں سے ہے اس لئے یوں کہیں کہ خاندان رسالت کے دوستوں کے ہم دوست ہیں اور ان کے دشمنوں کے ہم دشمن ہیں۔