Haqeeqat Talaq aur Halala se khilwadIslam Urdu Articles 

حقیقت طلاق اور حلالہ سے کھلواڑ

دین اسلام ایک ٹھوس حقیقت ہے اور قران مجید آئین زندگی ہے۔ تین طلاق کا دینا اسلامی ضمیر اور حمیتِ اسلامی کے خلاف ہے۔ خلافِ واقعہ او تسریحٍ باِحسان کو تیسری طلاق ماننا تضحیکِ انسانیت ہے۔ تسریح کے معنی اہل لغت طلاق لکھتے ہیں۔ حالانکہ تسریح کے معنی طلاق کے سلسلے میں فسخِ نکاح کے بعد عورت کو اپنے گھر سے رخصت کر دینا ہے۔ چاہے ایک ہی طلاق کے بعد عدت گزر جائے، چاہے دو طلاق کے بعد۔ قران لاریب میں تین طلاقوں کا کہیں ذکر ہی نہیں ہے، نہ اشارۃً نہ کنایۃً بلکہ واضح طور پر الطّلاق مرّتان کا اعلان ہے۔ دو سے زیادہ مرتبہ طلاق دینے کو کتاب اللہ سے کھلواڑ قرار دیا گیا ہے۔ عہد نبویؐ، عہد صدیقی و عہد فاروقی میں دو سال تک تین طلاقیں رجعی قرار دی جاتی تھیں اور لغو مہمل مانی جاتی تھیں۔ اور چودہ سو برس سے حفظاً، کتابتاً، تلاوتاً، تعلیماً و تعلماً بر سبیل تواتر غیر منقطع عہد نبویؐ سے جاری و ساری ہے اور اللہ گواہی کے لیے بہت کافی ہے۔

حلا لہ کی ضرورت قرانی آیتوں کی تصریحات کے ماتحت صرف مختلہ با لمال کے لیے ہے یعنی جو عورت خود شوہر سے طلاق لے اور وہ یوں طلاق نہ دے تو کچھ مال اسے دے کر باصرار اس سے طلاق حاصل کرے

قران کریم نے انبیاء کرام کا مقصدِ بعثت عدل پر مبنی معاشرہ کا قیام قرار دیا ہے۔ قران مجید کی سورۃ بقرہ کی آیت229 اور 230سے تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیرشوہر کا نکاح نہ کر سکنامحض افتراء ہے، بہتان ہے اور اس تعلق سے جتنی حدیثیں ہیں وہ سب قران مجید کی صریح آیتوں کے خلاف ہیں ۔حلا لہ کی ضرورت قرانی آیتوں کی تصریحات کے ماتحت صرف مختلہ با لمال کے لیے ہے یعنی جو عورت خود شوہر سے طلاق لے اور وہ یوں طلاق نہ دے تو کچھ مال اسے دے کر باصرار اس سے طلاق حاصل کرے تو اس کے لیے یہ حکم ہے فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنٌ بَعدُحَتّٰی تَنکِحَ زَوجاًغَیرُہ مختلہ (خلع کرانے والی) اپنے شوہر کو مال دے کر اس سے طلاق لینے کے بعد حلال نہ رہے گی جب تک وہ کسی دوسرے سے نکاح نہ کر لے جب وہ طلاق دے دے تو پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔



تین طلاق کے بعد حلالہ کیے بغیر پہلے شوہر سے نہ مل سکنے کی جتنی حدیثیں ہیں بلااستثناء اہل عجم کی طبع زاد اور کوفہ، بصرہ کے متکلمین کی ٹکسا لوں سے مقصدِ تخریب دین و تخریبِ معاشرہِ مسلمین کی خاطر نکلی ہوئی ہیں گرچہ متواتر کے درجے میں ہی کیوں نہ ہوں۔ بقول محدثین جس حدیث کو مختلف طریق سے اور مختلف واقعات کے ضمن میں اتنے لوگ بیان کریں کہ ان سب کا جھوٹ پر اتفاق کر لینا غیر متوقع سمجھا جائے ایسا تواتر ہے جو یقین کیلئے کافی ہے۔ یہ کہنے کی باتیں ہیں، خود سلف کا عمل اس بیان کردہ اصول کے خلاف ہے۔ نماز میں رکوع کے وقت رفع یدین کی اتنی حدیثیں ہیں کہ امام بخاریؒ نے ایک رسالہ رفع یدین مرتب کیا باوجود اتنے تواتر کے امام ابو حنیفہؒ اور سارے حنفی فقہاء اس تواتر عظیم کے باوجود اسے خلاف سنت سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: لازمی میرج رجسٹریشن ایکٹ کیا ہے؟

مفتیان کرام کے زبان زد خاص و عام یہ حدیث ہے کہ ’’تین چیزیں نکاح، طلاق اور رجعت یعنی امساک جو حالت اصلی میں کہی جائیں جب بھی اور ہنسی مذاق میں کہی جائیں تب بھی معتبر مانی جائیں گی۔ (اس حدیث کو نص قطعی کی طرح سمجھتے ہیں) اس حدیث کے راوی عبدالرحمٰن بن حبیب ہیں۔ امام نسائیؒ نے انھیں منکرالحدیث کہا ہے، جس کا اعتراف حافظ ابن حجرؒ اور امام ذہبیؒ دونوں کو ہے۔



اللہ جانے ہمارے فقہاء نے کس طرح معتبر سمجھ کر بے سوچے سمجھے غصّے میں ایک لفظ تین بار منہ سے نکل جانے اور جس سے رشتہِ نکاح جس کو قران مجید نے میثاقً غلیظ کہا ہے کو ہمیشہ کے لئے ٹوٹ جانا بتاتے ہے۔ جب کہ نہ شوہر اپنی بیوی کو الگ کرنا چاہتا ہے نہ بیوی شوہر سے علیٰحدگی کی خواہشمند ہے۔ بیوی الگ رو رہی ہے، شوہرالگ سر پیٹ رہا ہے مگر مفتی صاحب کا تفریق بین الزوجین والے فتویٰ کا خنجر دونوں کے رشتہِ میثاق غلیظ کو تار عنکبوت بنا کر ہوا میں اڑا دیتا ہے۔ کیا یہ قران و سنت کے منشاء کے مطابق ہو سکتا ہے۔ جس اللہ تعالیٰ نے یُرِیدُاللہ بِکُمُ الیُسرَوَلاَ یُریدُبَکُمُ العُسرَ (اللہ تمہارے ساتھ آسانی بہم پہنچانا چاہتا ہے تمہیں دشواری میں ڈالنا نہیں چاہتا) فرمایا ہے۔ جس رسولؐ نے ہمیشہ صحابہؓ کو تاکید فرمائی یَسّروُ وَلاَتَعَسّروُ (آسانی پیدا کرو، دشواری نہ پیدا کرو)۔ رسولؐ و خلفائے راشدینؓ سے ایسے فتوے کی امید کی جا سکتی ہے؟ شریعت کے حکم کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کے بعد آدمی کی کوئی حیثیت اللہ کے یہاں باقی نہیں رہتی ہے خواہ قران مجید کا تبرک کے طور پر کتنا ہی زیادہ احترام کیا جاتا ہو۔

مزید پڑھیں: اختلاف امتی رحمۃ کی حقیقت

حال ہی میں الیکٹرونک میڈیا میں حلالہ کے تعلق سے جس طرح کی باتیں بازگشت کر رہی ہیں اور کئی علماء و ائمہ کے ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں کہ الامان والحفیظ جو باضمیر آدمی کے لئے زمین میں دھنس جانے کے مترادف ہے۔ ٹی وی چینلوں کے ذریعے اسٹنگ آپریشن کرنے کے بعد ایک بڑے ریکٹ کا انکشاف ہوا جس میں ہمارے نام نہاد ملّا حلالہ کے نام پرباعصمت خواتین کی عزت و حرمت اور مال پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ اس پہ طرف تماشہ یہ کہ 50 ہزار سے لیکر ڈیڑھ لاکھ روپئے تک کی ڈیمانڈ بھی رکھتے ہیں۔ اسلام جبکہ مثالی معاشرہ کا علمبردار ہے اور مثالی نمونہ کا طالب، برخلاف اس کے یہ نام نہاد ملّا سماج کے ناسور ہیں۔



حدیثیں قران کی شرح ہو سکتی ہیں لیکن قرانی آیات کے مفہوم کو بدل نہیں سکتیں۔ سورۃ بقرہ کی آیت 230 کو تین طلاق پانے والیوں پر تھوپا گیا ہے۔ کہیں کی ضمیر کہیں پھیر کر ، کہیں کا عطف کہیں پر کر کے کسی نہ کسی طرح آیت کو روایات کے تابع کیا گیا ہے۔ اور پھر حلالہ کے نام پر سیکس کی دوکانیں چلائی جا رہی ہیں جن میں اطلاعات کے مطابق ہمارے علماء و قاضی صاحبان ملوث ہیں۔ یہ سب کے سب اسلامی شریعت کی رو سے مجرم ہیں اور سزا کے مستحق ہیں۔ یہ تمام ہفوات جو در آئی ہیں قران کو بدرقے کے طور پر استعمال کرنے کا نتیجہ ہے۔

 

مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی
بانی مسجدالسلام و چیئرمین اطہر بلڈبینک، سولاپور