تین طلاق اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقفIslam Urdu Articles 

حلالہ کے نام پر سیکس ریکٹ

دین اسلام ایک ٹھوس حقیقت ہے اور قران مجید آئین زندگی ہے۔ قران مجید میں سرے سے طلاق ثلاثہ مفقود ہے۔ نہ اشارۃً نہ کنایۃً اور واضح طور پر الطّلاق مرتان کا اعلان ہے۔ (القران ۔ ۲:۲۲۹) اس لیے یوں کہا جائے کہ وجود غیر معدوم ہے۔ طلاق شریعت کا عادلانہ نظام اور ازدواجی زندگی کی مشکلات کا منصفانہ حل ہے اگرمنشاء الٰہی کا پاس رکھتے ہوئے دی جائے۔

قران کریم نے انبیاے کرام کی بعثت کا مقصد عدل پر مبنی معاشرے کا قیام قرار دیا ہے۔ شریعت کے حکم کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کے بعد آدمی کی کوئ حیثیت اللہ کے یہاں باقی نہیں رہتی، خواہ قران مجید کا تبرک کے طور پر کتنا ہی زیادہ احترام کیا جاتا ہو۔



قران مجید کی سورۃ بقرہ کی آیت 229 اور 230 سے تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیرشوہر کا نکاح نہ کر سکنامحض افتراء ہے، بہتان ہے۔ اس تعلق سے جتنی حدیثیں ہیں وہ سب قران مجید کی صریح آیتوں کے خلاف ہیں ۔ ’’حلالہ کی ضرورت صرف مختلہ با لمال ( یعنی مال دے کر بیوی اپنے شوہر سے علیحدگی حاصل کرے) کے لیے ہے‘‘۔

مزید پڑھیں: خواتین اسلام کی زبوں حالی

حال ہی میں الکٹرونک میڈیا میں حلالہ کے تعلق سے جس طرح کی باتیں بازگشت ہو رہی ہیں اور کئ علما و ائما کے ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں کہ الامان والحفیظ، جو با ضمیر آدمی کے لیے زمین میں دھنس جانے کے مترادف ہے۔ جبکہ اسلام ایک مثالی معاشرہ کا علم بردار ہے اورمثالی نمونہ کا طالب ہے۔



حدیثیں قران کی شرح ہو سکتی ہیں، قرانی آیات کو بدل نہیں سکتی۔ سورۃ بقرہ آیت 230 کو تین طلاق پانے والیوں پر تھوپا گیا ہے۔ کہیں کی ضمیر کہیں پھیر کر ، کہیں کا عطف کہیں پر کر کے کسی نہ کسی طرح آیت کو روایات کے تابع کیا گیا ہے۔ اور پھر حلالہ کے نام پر سیکس کی دوکانیں چلائی جا رہی ہیں جن میں ہمارے علماء و قاضی صاحبان وغیرہ ملوث ہیں۔ یہ سب کے سب اسلام کی رو سے مجرم ہیں اور سزا کے مستحق ہیں۔ اور یہ تمام ہفوات جو در آئ ہیں قران کو بدرقے کے طور پر استعمال کرنے کا نتیجہ ہے۔

مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی
بانی مسجدالسلام و چیئرمین اطہر بلڈ بینک، سولاپور