ہندوستان کی وہابی تحریک اور جنگ آزادیCulture Urdu Articles 

ہندوستان کی وہابی تحریک اور جنگ آزادی

وہابی تحریک کے قائد اول شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب نجدی ؒ (1703 -1792) کی دعوت توحید کو وہابی تحریک کا نام دیا گیا۔ عالم اسلام اور نجدوعرب کے کلمہ گو اخوان دین کے ہر شعبہ میں انحطاط پذیر تھے۔ شرک و بدعات میں پھنسے ہوئے تھے۔ ایسے حالات میں محمد بن عبدالوہابؒ نے اصلاح و تبلیغ کی دعوت چلائی اور انتھک کوششوں کے بعداس میں کامیابی ملی۔ ترک اب تک جو حرمین شریفین کے ’’خادم‘‘ تھے اور انگریزوں کے لئے جن کو خلیج فارس میں نجدیوں کی بحری طاقت سے خطرہ لاحق تھا، تشویش کا باعث بنی۔ چنانچہ ترکوں اور انگریزوں نے مل کر تقدس مآبانِ ملت، ساحرانہ ہیئت کذائی میں جلوہ گر بزرگانِ با ضمیر و نام نہاد علماء کی تائید سے وہابیت کا لقب بطور مذہبی گالی ایجاد کیا۔



جب انگریزوں کو ہندوستان کی اسلامی تحریک سے خطرہ لاحق ہوا تو انہوں نے اس تحریک کو بھی یہی نام دیا۔ حالانکہ سید احمد بریلویؒ (1786 – 1831) کی تحریک میں اور نجدی تحریک میں کوئی باہمی تعلق و ربط نہ تھا۔ نجد کی تحریک میں توحید اور ترک بدعات پر زور دیا گیا تھا۔ اس کے برخلاف سید احمد شہیدؒ کی زیادہ توجہ جہاد پر تھی۔ 1831ء میں بالاکوٹ کے معرکے میں سید احمد بریلویؒ اور شاہ اسماعیل دہلویؒ شہید ہو گئے لیکن ان کی شہادت کے بعد بھی یہ تحریک جاری و ساری رہی۔ 1849ء میں پنجاب کا الحاق ہوا تو اس وقت وہابیوں کا شمار ان طاقتوں میں تھا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے لئے خطرناک تھے اسی لئے کمپنی نے اس تحریک کو کچلنے کے لئے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد تو مظالم میں بے حد اضافہ ہو گیا اور ان مظالم کیلئے کچھ نہ کچھ جواز بھی پیدا کیاگیا۔

ان کے خلاف تعزیری کاروائیوں کا آغاز ہوا اور مقدماتِ سازش کے نام سے 1864 سے 1871تک انبالہ، پٹنہ، مالدہ، راج محل اور پھر پٹنہ میں مقدمے دائرکیے گئے۔ 1871ء تک گرفتاریوں کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ سینکڑوں بے گناہوں کو خلافِ قانون جیلوں میں ڈال دیا گیا اور ان پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے۔ صادق پور کے مکانات کلکٹر و ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راونشا کی شفارشات کے بموجب منہدم کر دیئے گئے اور صادق پور کا احاطہ پٹنہ میونسپلٹی کو دے دیا گیا۔ ان سفارشات سے آگے بڑھ کر قبروں کو بھی مسمار کیا گیا باوجود اسکے سید احمد شہیدؒ کے پیروٗں نے ان صبر آزما حالات میں استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔



سید احمد بریلویؒ کی شہادت کے وقت تحریک کے اہم کارکن مولانا ولایت صادق پوری حیدرآباد میں اور مولانا ولایت علی رامپوری مدراس میں تبلیغی مشن اور سفارتی خدمت پر مامور تھے۔ سید احمد بریلویؒ نے ایک خط سکندر جاہ کو لکھا جس میں انہیں انگریزوں کے خلاف ابھارا۔جنگ آزادی کے لئے جس ولولہِ جوش اور جانبازی کی ضرورت تھی اسے وہابی تحریک نے مہیا کیا۔ بہ الفاظ دیگر وہابی تحریک نے جنگ آزادی کیلئے کارآمد مسالہ فراہم کیا۔ یہ سمجھنا کہ پہلی جنگ آزادی وہابی تحریک سے متاثر نہ ہوئی تھی اس عظیم الشان تحریک کی اہمیت کو نظر انداز کرنا ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہندوستان میں اپنے آٹھ سو سالہ دور میں اگر کوئی سرفروشانہ اور قابل فخر کارنامہ انجام دیا ہے تو وہ وہابی تحریک ہے۔ وہابی تحریک کے قائدین انگریزوں کے سخت مخالف تھے اور مخالفت کی آگ سارے ملک میں پھیلا رہے تھے۔ منشی محمد جعفر تھانیسری جیسے ذمہ دار قائد نے پہلی جنگ آزادی میں نمایاں حصہ لیا تھا۔

مزید پڑھیں: اختلاف امتی رحمۃ کی حقیقت

یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ جس تحریک کے پیروٗں نے اپنے خون سے ملک کو آزاد کرانے کے لئے راستہ ہموار کیا اور مذہبی بیداری اور معاشرتی اصلاحات کیلئے ہر قسم کی مخالفتوں کا مقابلہ کیا اس کے متعلق ہمارے اہل ملک بہت ہی کم جانتے ہیں۔ جب یہ گوشے بے نقاب ہونگے اور ضرور ہونگے تو اس تحریک اور جنگ آزادی ہند کا باہمی تعلق واضح ہوگا اور ان مبارک ہستیوں کا شمار مسلمانوں ہی کے محسنوں میں نہیں بلکہ انسانیت کے محسنوں میں کیا جائیگا۔

مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی
بانی مسجدالسلام وچیرمین اطہر بلڈ بینک، سولاپور