ایک بھیانک سازشUrdu Articles 

ایک بھیانک سازش

اٹھارویں صدی کے اواخر میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا تو مراد بک نے جامع ازہرکے علماء کو جمع کرکے ان سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے؟ علماء نے با لاتفاق یہ رائے دی کہ جامع ازہرمیں صحیح بخاری کا ختم شروع کردینا چاہیے اس لیے کہ انجاح مقا صدکے لیے تیر بہدف ہے، چناچہ ایسا ہی کیا گیا لیکن ابھی بخاری کا ختم ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ اہرام کی لڑائی نے مصری حکومت کا خاتمہ کر دیا۔

بیسویں صدی کے آغازمیں ارض فلسطین پر کیا ہوا؟ 15 مئی 1948ء کی رات کو 12 بجے برطانوی انتداب کے بعد خاتمہ کا اعلان ہوا یہ انتداب 24 سال 2 ماہ اور14 دن پہلے ارض مقدس میں قائم ہوا تھا۔ انتداب کے خاتمہ سے 8 گھنٹے قبل ہی پہلے سے تیار کی ہوئی سا زش کے مطابق یہودیوں کی طرف سے حکومت اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا گیا اس اعلان کو ابھی دو منٹ گزرے تھے کہ امریکہ جیسی سپر پاور (بڑی طاقت) نے خلاف دستور اس مفروضہ اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔ 16 مئی کو یہودیوں نے علی الاعلان عرب ملکوں سے جنگ چھیڑدی اور مصر کے 40میل حدود میں داخل ہو گئی۔ ( آج اسی مصر کی طرف سے اسرائیل کو صرف گیڈربھبکی دی جارہی ہے ) اس طرح راندہِ درگاہ قوم کو عالم عرب کے قلب میں پیر جمانے کی جگہ مل گئی اور سارے مسلمان ملکوں کے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود عالم عرب کے سینے پر مضبوط یہودی ریاست قائم ہوگئی۔



اسی سے مسلمانوں کے انحطاطہ اور زوال کی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ آج یہودی ریاست مادی فوجی اور اقتصادی ہر لحاظ سے قوی اورطاقتور ہے اسکی فوجی برتری کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ قبلہ اؤل ان کے رحم و کرم پر ہے اور سرزمین فلسطین کی مظلومی دنیا کے سامنے عیاں ہے۔ (جو آج یوم غضب منانے پر مجبور ہے ) باوجوداس کے مسلمان اس خوش فہمی میں جی رہیں ہیں کہ اسرائیلی حکومت جلد فنا ہو جائے گی، عربوں کا کھویا ہوا وقار لوٹ آئے گا اور پھر سے اقتدار نصیب ہوگا۔

مزید پڑھیں: لازمی میریج رجسٹریشن ایکٹ کیا ہے؟

سرسری جائزہ پیش خدمت ہے 10 رمضان 8 ؁ ھ سے مسلمانوں کا مرکز مکہ مکرمہ ہے جہاں کعبہ واقع ہے، یہودی اور عیسائیوں کا ملجا و ماوی امریکہ ہے۔ 12 اکتوبر 1492ء میں کولمبس پہلے پہل سرزمین امریکہ پر اترا تھا پھر امریکہ منظرعام پر آیا۔ 1910ء میں سلطان ابن سعود فرما ن روائے حجا ز نے مکہ پر قبضہ کرکے مکمل امن و امان قائم کیا تھا اورامریکہ میں بھی امریکہ کے چھبیسویں صدر روزویلٹ نے اسی سال خانہ جنگی ختم کرکے امریکی فضا کو پرسکون بنایا تھا۔



آج امریکہ عالمی طاقتور ملک کی حیثیت سے لوہا منواچکا ہے اور اسکے مقابل عالم عرب کشمکش کی حا لت میں جی رہے ہیں۔ اقبال کے اس شعر پر آپ نے کبھی غور کیا؟

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

ہم لوگوں نے عمل کو آ خرت سے خاص کردیا، کاش زندگی کو اس میں شامل کرلیتے تو یہ امت زبوں حالی کا شکار نہ ہوتی اورنہ قبلہ اول ہمارے ہاتھ سے نکلتا۔ نہ ہی خطیب قبلہ اول کے ساتھ ایسا حادثہ ہوتا، نہ فلسطینی نوجوانوں سے سرزمین فلسطین لہولہان ہوتی اور نہ ساری دنیا کے مسلمانوں کا دل دھڑکتا  نہ ہی زمینی دھڑکنیں تیز ہو تیں۔ ضرورت ہے کہ زندگی کو با عمل بنائیں یعنی معاشی خوشحالی کے ساتھ عملی میدان میں آگے بڑھیں۔ فعال زندگی گزار یں صالح معاشرہ کے لئے تگ و دو کریں پھر اجر عظیم کی تمنا پوری ہوگی۔

 

مولانا سید شہاب الدین سلفی فردوسی
بانی مسجدالسلام و چیرمین اطہر بلڈبینک، سولاپور