What is mandatory marriage registration actSociety Urdu Articles 

لازمی میرج رجسٹریشن ایکٹ کیا ہے؟

شرعاًنکاح کی تکمیل کے لیے محفل عقد،گواہوں کی موجودگی اور ایجاب و قبول کافی  ہیں  باوجود اس کے ہم شادیوں کے رجسٹریشن کو نہایت ضروری سمجھتے ہیں جس رجسٹریشن کی ضرورت کو حکومت آج نافذکرنے کی ہدایت دے رہی ہے ، ہم گزشتہ دہائیوں سے اس ضرورت کو محسوس کرکے عملی جامہ پہناچکے ہیں ۔  ہمارا سسٹم نہایت کامیابی سے شادیوں کے رجسٹریشن کا کام انجام د ے رہا ہے۔

قاضی صاحبین کے ذریعےاس وقت نکاح کاجورجسٹریشن ہورہاہے اسکی بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ بوقت واحد شرع اسلامی کے موجب نکاح کی با ضاطہ تکمیل بھی ہورہی ہے اور سرکاری سطح پر رجسٹریشن کی تکمیل بھی۔



لازمی میرج رجسٹریشن ایکٹ کےتحت شادی کاسرٹیفیکٹ ہوتو ایسی شادی کسی بھی مذہب کے بموجب جائزاور کافی قرار نہیں پاتی ۔ قاضی کے بول میں جو جادو ہوتا ہے وہ سرکاری رجسٹریشن کے سرٹیفیکٹ میں نہیں ہوتا۔ جیسا کے حکومت اترپردیش کی جانب سے شادیوں کے رجسٹریشن کو لا زمی قرار دیا گیا ہے اور کافی سمجھا گیا ہے اس صورت میں ہر مذہب کے ماننے والوں کے لیے مسائل ضرور پیدا ہوں گے۔  حکومت دستور کی پابند ہے اور دستور میں تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔

مزید پڑھیں: مسلم قیادت کا عملی فقدان

کیا یہ ایک امرواقعہ نہیں کہ یورپ غالباًانگلستان میں دوحقیقی بھائ بہن رجسٹرار آف میریج  کے سامنے کھڑے ہوگئے کہ ہم باہم شادی کرکے میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی  گذارنا چاہتے ہیں ۔ عیسائ مذہبی حلقوں میں کہرام مچ  گیا لیکن عدالت نے فیصلہ سنایا کہ یہ دونوں عاقل وبالغ ہیں ان کو باہمی رضامندی سے شریکِ زندگی کے انتخاب کا قانونی حق ہے اور رجسٹریشن ہو گیا ۔  بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی، دوسرا واقعہ غالباً ڈنمارک کا ہے جہاں دو مرد رجسٹرار آف میریج  کے سامنےآ کھڑے ہوئے کہ ہم باہم شادی کرنا چاہتے ہیں،  عدالت نے فیصلہ سنایا کہ ان کو اپنا ہمسفرمنتخب کرنے کی آزادی ہے اور رجسٹریشن ہو گیا۔

اگر حکومت اتر پر دیش ان تمام امور پر غور کئے بغیر آگے بڑھ رہی ہے تو اس اقدام سے نا مناسب رجحانات کی ہمت افزائ ہوگی اور کیا حکومت کارجسٹرار آف میریج کسی نامناسب نکاح کے رجسٹریشن سے انکار کر سکتا ہے؟



حکومت اتر پر دیش سے پرخلوص مشورہ ہے کہ قانون کا نفاذ اس حد تک اور صرف اسی حد تک قاضیوں پر لاگو کرے کہ وہ اپنے رجسٹریشن کا ایک نسخہ حکومت کے مقرر کردہ چیف رجسٹرار کو دیں۔ اگر حکومت کے پروفارما میں ایسا کوئ کالم ہے جواس وقت قاضیوں کے رجسٹریشن فارم میں نہیں ہے تو ریاستی وقف بورڈ موجودہ پروفارما میں اس کالم کا اضافہ کر سکتا ہے اور ایک بنا بنایا سسٹم حکومت کو مل جاے گا۔ میری حکومت اتر پردیش سے پر خلوص اپیل ہے کہ وہ تعمیری راہ  کو اپنائے۔