IjtihadIslam 

اجتہاد ایک فریضہ ہے۔ ہدایت اسی پر موقوف ہے۔

جو ہماری راہ کی تلاش میں کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنی طرف آنے کی راہیں دکھا دیتے ہیں۔ (القران) اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے بعض اگلوں سے کوتاہیاں ہوئیں، ان کی کوششیں دین کے لئے اتنی نہیں ہوئی جتنی کہ فرقہ وارانہ عقائد و اعمال کے اثبات و تردید اور اپنے اساتذہ و مشائخ کی لغزشوں کی تصحیح اور بے جا حمایتوں میں صرف ہوتی رہیں۔ (اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے   اور ان کے حال پر رحم فرمائے۔ آمین)

جبکہ قران و سنت کے صحیح معنٰی و مفہوم پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ درحقیقت اسلام کے نظام میں وسیع تغیرات کی گنجائش موجود ہے۔ اور مشکل ہی سے کوئی آئینی اور سیاسی اصطلاح ایسی ہوگی جو شریعت کے خلاف ہو۔ اسلام ہر زمانے میں انسانوں کی تمام ضروریات کا کفیل ہونے کے قابل ہے اور عصر جدید کی تمام ضروریات کوبھی بخوبی پورا کر سکتا ہے۔

جامد تقلید نے امت مسلمہ کو زوال پذیر قوم کے مثل حصار میں ایسا محصور کر دیا ہے کہ آج علوم عقلیہ و طب وغیرہ میں بھی انکا دارومدار اسلاف کے اقوال پر رہ گیا ہے۔

دیانتاً اپنا یہ حق سمجھتا ہوں کہ جس بات کو اپنا ایمان صحیح نہ سمجھے اس کو کبھی صحیح نہ سمجھوں اور محض تقلیداً کسی ایسی بات کو حق نہ کہہ دوں جسے میری دیانت (ایمانداری) باطل سمجھتی ہے۔ مسلمانوں کا دانشمند طبقہ لایعنی بحثوں اور فلسفیانہ موشگافیوں میں وقت گزارتا ہے، علمِ معانی و بیان جسکو ادبیات کہتے ہیں اور جسکی تحصیل سے آدمی خطیب و شاعر تو ہو جاتا ہے مگر تہذیبِ اسلامی سے منور ہو ضروری نہیں۔ علم منطق جو میزانِ افکار کہا جا سکتا ہے لیکن جس سے دماغ ممکنہ خرافات اور واہیات سے مملوہو جاتا ہے۔



موجودہ حالات میں اتباع کیلئے ہر فرقے کے پاس اس کے اکابر کی آراء اور اس کے اسلاف کی مخترعات، محدثات ہیں اور ہر فرقہ اپنے اپنے معتقدات میں مست ہے، یہ بھی غور نہیں کرتے کہ اکابر کسی کے ہوں ان کے متعلق ہم سے پوچھ نہ ہوگی، انہیں اپنے کیے کا صلہ ملے گا اور ہمیں اپنے کیے کا۔

قران کو محض روزہ نماز کی کتاب سمجھنا کس قدر حیرتناک بات ہے جبکہ قران کی کوئی چھوٹی بڑی سورۃ مسجد، مصلیٰ، وضو، تیمم یا روزہ وغیرہ سے منسوب و معنون نہیں ہے۔

جامد تقلید نے امت مسلمہ کو زوال پذیر قوم کے مثل حصار میں ایسا محصور کر دیا ہے کہ آج علوم عقلیہ و طب وغیرہ میں بھی انکا دارومدار اسلاف کے اقوال پر رہ گیا ہے۔ اگر یہ مرض تقلید اہل یورپ میں ہوتا تو آج نہ ہوائی جہاز نظر آتا، نہ بجلی گھر، نہ ریل کی سواری، نہ موٹر گاڑی اور نہ جدید اسلحے دکھائی دیتے۔

مفسر قران علامہ طنطاوی ؒ نے جو ضخیم تفسیریں لکھی ہیں ان میں اپنے عہد کے تمام علوم و فنون کی نشان دہی کرتے ہوئے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ دنیا کے سارے مفید علوم و فنون کو حاصل کریں مگر ’’قران‘‘ کو محض روزہ نماز کی کتاب سمجھ کراسے تبرک نہ سمجھیں اورقران کو سمجھنے کی کوشش کو گمراہی نہ جانیں۔ علامہ طنطاوی ؒ نے خوب راہ دکھائی کہ دیکھو قران وہ کتاب ہے جس میں یہ ساری چیزیں جس کا زکر کیا گیا ہے وہ یورپ والوں کے یہاں موجود ہیں اور اہل یورپ ہنستے ہیں کہ قران میں سب موجود ہے مگر تمہیں نظر نہیں آتا۔ اب یہ تمام چیزیں وجود میں آنے کے بعد تمہں سب نظر آنے لگا باوجود اس کے تم ایک چیز بنا نہیں سکتے۔ جب تقلید کے مریض مسلمان اپنے اسلاف کی تقلید سے بھاگے تو لگے یورپ کی تقلید کرنے کیونکہ اجتہاد کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے ہیں۔

مزید پڑھیں: اختلاف امتی رحمتہ کی حقیقت

قران کو محض روزہ نماز کی کتاب سمجھنا کس قدر حیرتناک بات ہے جبکہ قران کی کوئی چھوٹی بڑی سورۃ مسجد، مصلیٰ، وضو، تیمم یا روزہ وغیرہ سے منسوب و معنون نہیں ہے مگر علوم و فنون کے موضوعات سے متعدد سورتیں منسوب و معنون ہیں اور ان کا عنوان قطعی علمی و فنّی ہے۔ مثلاً سورہ نمل یعنی (چیونٹی)، سورہ نحل (شہد کی مکھی)، سورہ عنکبوت (مکڑی)، سورہ صٰفّٰت (اڑتے ہوئے پرندے)، سورہ انعام (چلتے ہوئے جانور)، سورہ شمس (سورج)، سورہ قمر (چاند)، سورہ نجم (ستارہ)، سورہ بروج (ستاروں کی گذرگاہیں)، سورہ رعد (کڑک)، سورہ دخان (اسٹیم، بھانپ)، سورہ حدید (لوہا، فولاد) وغیرہ۔ پورے قران کو چھان ماریئے کہیں پر اللہ نے مسجد، مصلیٰ، سجدہ گاہ، نماز، روزہ ، وضو، تیمم ، داڑھی، عمامہ کی قسم نہیں کھائی ہے۔مگر علمی عنوانات مثلاً رات، دن، فجر، روشنی، تاریکی، انجیر، زیتون، پہاڑوں، گھوڑوں، آسمانوں، برجوں، ستاروں اور ہواؤں وغیرہ کی اللہ تعالیٰ نے جابجا قسم کھائی ہے۔ لھذٰا قران فہمی کو عام کیا جائے تاکہ ہر کوئی اس کے نکتے سمجھ سکے اور دماغ کی قلعی کھلے۔



تکمیل انسانیت کے مصنف بریفولٹ سے سبق لیں۔ وہ لکھتا ہے کہ مغربی کلچر میں کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں عربی ثقافت کا رنگ نہ جھلکتا ہومثلاً ایک شعبہ جسے علم الاشیاء (سائنس کی روح) کہا جاتا ہے۔ ہماری سائنس صرف اسی حد تک عربوں کی مرہون منت نہیں کہ انھوں نے ہمیں عجیب و غریب نظریات و انکشافات سے روشناس کرایا بلکہ ہماری سائنس کا وجود ہی ان کا شرمندہء احسان ہے۔ اسلام سے قبل کی دنیا در حقیقت زمانہ قبل از سائنس تھی۔

مزید پڑھیں: ابلیس کی حقیقت

لیکن ہمارے کرم فرمایانِ قوم، تقدس مآبانِ ملت، مقدس لباسوں میں ملبوس اور معصوم لبادوں میں ملفوف ساحرانہ ہئیت کذائی میں جلوہ گر بزرگان با ضمیر جس قسم کی تعلیمات سے بھولی بھالی عوام کی روح کو بیدار اور ایمان کو تازہ کر رہے ہیں وہ اپنے آپ میں شرمناک ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے کچھ علماء و فضلاء تک اس تارعنکبوت میں گرفتار ہیں اور جو لوگ قران میں غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں یہ ’’ملّا‘‘ اسے بے دین بتاتے ہیں۔