lack of LeadershipUrdu Articles 

مسلم قیادت کا عملی فقدان

موجودہ حالات میں مسلمانوں کا غصہ ایک فطری جذبہ ہے۔ لیکن مومن جذبات سے مغلوب نہیں ہوتا، فراست اور حکمت مومن کی متاع گراں مایہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اور قران کا حکم ہے کہ اللہ کی مدد چاہو صبر کر کے اور نماز کا اہتمام کر کے۔ مسلمانوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئیے کہ وہ ہندوستان میں اقلیت میں ہیں اور ہندو طبقہ اکثریت میں ہے۔ عقل کی جگہ اگر وہ جذبات کو بیٹھا دیں گے، حکمت و فراست کو بالائے طاق رکھ کر جذباتی ردعمل سے کام لیں گے تو خسارہ میں رہیں گے۔ مسلمانوں کو چاہیئے کہ جوش کی جگہ ہوش اور جذبات کی جگہ عقل سے کام لیں۔ حکمت عملی اور فراست سے ہر پیش آمدہ مسئلہ کو دیکھیں، صبروضبط سے کام لیں یہی کمزوروں کا ہتھیار ہے، کمزوروں کیلئے نصرتِ الٰہی صبر و صلواۃ سے ہی آتی ہے۔



دیگر مذاہب کی طرح ہندو مذہب بھی پریم اور ملائمیت کا مذہب ہے اور اس کا بنیادی اصول سرودھرم سمبھاؤ یعنی تمام مذاہب کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھنا ہے۔ بھارت کے تمام معقول اور سمجھدار ہندوں نے قابل نفرت عمل کی مذمت کی ہے جو خوش آئند ہے۔ فیصل فاروق صاحب، ممبرا جمعرات 20 جولائی 2017 ء کے انقلاب کے دیوان عام میں لکھتے ہیں کہ نائب صدر کا انتخاب مبینہ طور پر ملک کو مکمل ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی ایک انتہائی اہم کڑی تو نہیں؟ لیکن خود ہمارے کچھ مسلم رہنماؤں نے کیا کیا؟

منسلک مضمون جو آپ پسند کریں گے: ابلیسکیحقیقت

مسلمانوں کے وہ ’’عالم‘‘ ، لیڈر اور تنظیمیں جن کے آئڈیالوگ مولانا مودودی ہیں منیر کمیشن کے سامنے 1985ء میں فرمایا تھا۔’’ میں پاکستان میں حکومت الٰہیہ چاہتا ہوں اگر ہندوستان ہندو راشٹر بنتا ہے اور مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری قرار دیا جاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو اس دوسرے درجہ کے شہری کی حیثیت قبول کر لینی چاہیئے‘‘۔ وقت کی ضرورت ہے کہ علماء اور دانشمند ہندو اکثریت کے ساتھ مل کر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خطوط متعین کریں تاکہ مسلم قیادت کا عملی فقدان ختم ہو اور تجربات کی روشنی میں عملی راہ ہموار ہو۔