Iblees Ki HaqeeqatIslam Urdu Articles 

ا بلیس کی حقیقت

سوال: ابلیس جو آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کے حکم سے انکار کی پاداش میں مردود بارگاہ ہوا ، کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ فرشتوں میں سے تھا اور ان کا سردار اور استاد تھا پھر اس نے انکار کیوں کیا کیونکہ فرشتوں کی خاصیت یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ کبھی حکم الٰہی سے سرتابی نہیں کرتے ، نافرمانی ان کے خمیر ہی میں نہیں ہے ۔ اگر ابلیس ملائکہ میں سے نہیں تو ان کے ساتھ کیوں تھا ؟ کہ حکم الٰہی کا مخاطب اور انکار کی سزا میں ملعون قرار دیا گیا ؟

عبدالمالک، رتنا گیری

جواب بعونہ تعالیٰ : ’’ملائکہ اور سجدہ ‘‘دونوں کا مفہوم قرار واقعی متعین نہیں کیا گیا ہے ۔ آدم کے واقعہ میں ملائکہ کے معنی فرشتے نہیں بلکہ کائنات کی وہ طاقتیں ہیں جو کائنات میں موجود اور اس کے تمام اسباب و علل کے کاروبار کو چلا رہی ہیں۔ بالفاظ دیگر اقصائے عالم میں اللہ تعالیٰ کے مقرر احکام اور متعین قوانین کو چلانے والی تمام مخلوق یا طاقتوں کو ایک جامع لفظ ’ ’ ملائکہ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔وہ آسمان سے لے کر زمین تک تدبیر امور کرتا ہے۔ (سجدہ )۵

ابلیس نے آدم کو بر بنائے ترکیبی اپنے سے بہتر نہیں جانا اس لئے اس نے اظہار اطاعت سے انکار کر دیا ۔علمی فضیلت میں انسان افضل ہے اس لئے ابلیس نے معیار فضیلت علم کو نہیں بلکہ عناصر ترکیبی کو قرار دیا۔ میں آدم سے بہتر ہوں اس لئے کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اوراس کو مٹی سے پیدا کیا (اعراف) ۱۲



یہ ’’ تدابیر امور ‘‘جن ذرائع و شرائط اور قوت و مخلوق کے ذریعہ عمل میں آئی ہیں اُن کا سلسلہ آسمان سے زمین تک قائم ہے۔ملائکہ جمع ہے ملکوت کی اور مالک کی بھی ، واقعہ آدم میں لفظ ملائکہ سے مراد فرشتے نہیں بلکہ کائنات کی تمام طاقتیں ہیں جن میں تمام مخلوق اور طاقتوں کے ساتھ جنات بھی شامل ہیں۔اور جس دن وہ سب کو اکٹھا کرے گا ملائکہ کو پوچھے گا کیا لوگ تمہاری پرستش کرتے تھے ۔(سبا ۴۰) یہاں بھی ملائکہ بمعنی طاقتوں استعمال ہوا ہے۔ فرشتوں کی پرستش نہیں بلکہ طاقتوں ( ہوا ، پانی، آگ وغیرہ) کی پرستش کرتے ہیں ۔ملائکہ میں تمام طاقتیں شامل اور داخل ہیں خواہ وہ مادی جسم رکھتی ہوں یا نہ رکھتی ہوں ، نظر آتی ہوں یا نہ نظر آتی ہوں یہ تمام طاقتیں قانون الٰہی کے مطابق عمل پیرا ہیں۔ان عمل پیرا کار فرمائیوں کو تسبیح کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔ اور ملائکہ حمد کے ساتھ اپنے رب کی تسبیح کرتے رہتے ہیں ، (شوریٰ ۵) اللہ ان کو جس بات کا امر کرتا ہے وہ اس میں اس کی نا فرمانی نہیں کرتے (تحریم ۶) کائنات کی جس طاقت کے ذمّہ جو فرض ہے ادا کر رہی ہے ، یہی سجدہ ہے۔فرشتے نہ جسم رکھتے ہیں کہ ہماری طرح سر جھکائیں نہ کسی انسان کے وہ کبھی محکوم بنے ۔ دراصل ملائکہ سے مرادکائنات کی طاقتیں ہیں ۔کڑک او ر بجلی ( بقرۃ ۱۹ ) اور کڑک اور دوسری طاقتیں اس کی تسبیح و حمد کرتے ہیں ۔(رعد ۱۳) رعد کے ساتھ فرشتے کی کوئی تُک نہیں ہے۔

منسلک مضمون جو آپ پسند کریں گے :اختلافامتیرحمۃکیحقیقت

آدم نے جس وقت علم الاسماء کا مظاہرہ کیا تو ملائکہ نے فوراََ اعتراف کر لیا جب بر بنائے شرف علم ملائکہ کو کہا گیا کہ آدم کو سجدہ کریں تو سب نے ان کے سامنے سر جھکا دیا سوائے جنات کے یعنی انسان کی علمی عظمت و طاقت کے سامنے کائنات کی تمام مادّی و غیر مادّی قوتیں جھک گئیں ، اظہار اطاعت و فرمانبرداری اور تسلیم و رضا کے لئے سر بسجود کی اصطلاح سے ہر شخص واقف ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہیں سب طوعاََ و کرھاََ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں۔ ( رعد ۵ ) جس طرح ساری طاقتور مخلوق کے نمائندے آدم کے سامنے تھے اسی طرح جنوں کا نمائندہ ابلیس بھی ایک طاقت تھا۔ اور جب ساری طاقتوں کو مطیع و فرمانبردار بننے کو کہا گیا تو جنوں کا نمائندہ ابلیس بھی اس حکم میں داخل تھا ورنہ پر سش سجدہ کے وقت فوراََ کہہ دیتا کہ ملائکہ میں سے نہیں ہوں۔

فرشتے نہ جذبات رکھتے ہیں نہ اختیار نہ ارادہ ۔ لہٰذا ان تمام واقعات میں ’’جن ‘‘صاحب اقتدار و ارادہ ہیں آگ بگولہ ہو گیاخلافت ارضی چھن جانے کی وجہ سے اور زمین پر انسان کا قبضہ ہو جانے سے ہمیشہ کے لئے انسان کا دشمن بن گیاکھلم کھلا اور اس نے کہا کہ تیری عزت و جلال کی قسم سب کو اکھاڑ پھینکوں گا

اب سوال یہ ہے کہ جنوں کا نمائندہ ابلیس نے انکار کیوں کیا؟ جواب یہ ہے کہ ابلیس نے آدم کو بر بنائے ترکیبی اپنے سے بہتر نہیں جانا اس لئے اس نے اظہار اطاعت سے انکار کر دیا ۔علمی فضیلت میں انسان افضل ہے اس لئے ابلیس نے معیار فضیلت علم کو نہیں بلکہ عناصر ترکیبی کو قرار دیا۔ میں آدم سے بہتر ہوں اس لئے کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اوراس

کو مٹی سے پیدا کیا (اعراف ۱۲) اور حقارت سے انسان کا ذکر کرتا ہے ۔کیا میں اس کے سامنے جھکوں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے ۔ کہنے لگا کہ دیکھ تو کیا یہی وہ ہے جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔( اسرائیل ۶۱) شجر و حجر ،آب و آتش ، خاک و باد سب پر انسان کو اقتدار حاصل ہے لیکن ’’ جن ‘‘ انسان کے حیطہ اقتدار سے باہر ہے۔ ہم دوربینوں سے ننھے ننھے جرمس(خلیات) کا معائنہ کر لیتے ہیں مگر ’’جن‘‘ کو ہم کبھی نہیں دیکھتے ۔ شیطان اور اس کا قبیلہ تم کو اس طرح دیکھتاہے جس طور پر تم لوگ اسے نہیں دیکھتے ہو۔(اعراف۲۷)اور جنات کو ہم نے خالص آگ سے پیدا کیا ۔ یہ آتشی مخلوق صاحب اقتدارو ارادہ تھی اس لئے یہ مخلوق زمین پر حکمران ہو گئی اور جب اللہ نے ملائکہ سے کہا کہ میں زمین پر ایک حکمراں بنانے والا ہوں تو مخالفت کی کہنے لگا ایسوں کو پیدا کرے گا جو فسادی ہوں گے اورخون و خرابہ کے شوقین۔



فرشتے نہ جذبات رکھتے ہیں نہ اختیار نہ ارادہ ۔ لہٰذا ان تمام واقعات میں ’’جن ‘‘صاحب اقتدار و ارادہ ہیں آگ بگولہ ہو گیاخلافت ارضی چھن جانے کی وجہ سے اور زمین پر انسان کا قبضہ ہو جانے سے ہمیشہ کے لئے انسان کا دشمن بن گیاکھلم کھلا اور اس نے کہا کہ تیری عزت و جلال کی قسم سب کو اکھاڑ پھینکوں گا (ص ۸۲) سو جیسا کہ تو نے مجھے اکھاڑ پھینکا ہے (اعراف ۱۶) کیونکہ یہ معترض مخلوق ہر چیز کا ’’ نام ‘‘ رکھنے کی صلاحیت سے محروم تھی۔(الحجر ۳۴) اس سوال و جواب کے بعد جنات نے خلافت ارضی کی کرسی انسان کے لئے خالی کر دی ۔ہم نے کہہ دیا کہ بس اب تو ہٹ نکل یہاں سے ( الحجر ۳۴) پھر ایسا ہٹا کہ بلا شبہ وہ اور اس کا قبیلہ تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے جس طور پر تم لوگ اس کو نہیں دیکھتے ہو۔(اعراف۲۷) تمام طاقتوں نے انسان کے آگے سر جھکا دیا مگر جناتی طاقتوں کا نمائندہ ابلیس نے انکار کر دیا۔انکار کی صورت میں اس کو یہ خمیازہ بھگتنا پڑا کہ خلافت ارضی اور رحمت الٰہی دونوں سے ناامید ہو کر ہمیشہ کے لئے غمگین ہو گیا ۔اس لئے انکار اطاعت کے بعد اس کو ابلیس کہا گیا۔اور اب یہ مخصوص ذات بھی ناپید ہو گئی کیونکہ قرآن میں اس سے پناہ مانگنے یا لعنت بھیجنے کا کہیں پر حکم نہیں دیا گیا ۔قرآن مجید کے مطالعہ سے جو سمجھا تحریر کیا ۔ور نہ متن کی شرح کاشارح علیہ السلام کے سوا کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا۔