Islam Urdu Articles 

اختلاف امتی رحمۃ کی حقیقت

عربی زبان کا یہ فقرہ جس کو قران مجید نے عذاب کہا ہے ( اٰل عمران ۱۰۸ )، باعث کفر بتایا ہے( انعام ۱۵۱)، شرک سے تعبیر کیا ہے۔ (معاذاللہ) اللہ کا رسولؐ اسے باعث رحمت فرمائے ناممکنات میں سے ہے۔ اس فقر ے کو اگر حدیثِ رسولؐ قرار نہ دیا جائے تو پھر فرقہ بندی کیلئے جواز کی کوئی صورت (راہ) نہیں رہ جاتی ہے۔ قران مجید کے ارشاد کے مطابق جو لوگ حقیقت کو طوعاً نہیں مانتے ہیں حقیقت ان سے اپنے آپ کو کرھاً منوا لیتی ہے۔ مثال موجود ہے مرزائیوں کے خلاف یہ اعتراض کیا گیا کہ انھوں نے امت کے اندر ایک فرقہ بنا کراختلاف پیدا کر دیا ہے، اس کے جواب میں مرزائیوں نے کہا کہ اگر ہمارے کسی عمل سے امت میں اختلاف پیدا ہو گیاہے تو امت کو اس کے لئے ہمارا شکرگزار ہونا چاہئے نہ کہ شکوہ سنج! اس لئے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ ا ختلاف امتی رحمۃ اور ہمارا یہ نیا فرقہ امت کے لئے مزید رحمتوں کا باعث ہے۔

تاریخ کے اوراق جب ہم الٹتے ہیں، احادیث رسول ﷺ جب ہم پڑھتے ہیں تو صحاح ستہ کے علاوہ حدیث کی پہلی کتاب موطا امام مالکؒ میں بھی یہ حدیث (قول ضعیف) نہیں ملتی ہے۔ اسی قدر نہیں بلکہ جن کتابوں کا درجہ ان سات کتابوں کے بعد ہے جیسے امام شافعیؒ کی کتاب الاُم، مسند امام احمدؒ ، مسندامام شافعیؒ ، مسند امام ابوحنیفہؒ ، موطا امام محمد، سنن دارمی، سنن دارقطتنی، مسندابوداؤد، الطیالسی، مستدرک حاکم، سنن ابن جریج، سنن ابن اسحق وغیرہم احادیث کی مشہور کتابوں میں بھی کہیں اس حدیث کا نام و نشان نہیں ہے۔

مرزائیوں کے خلاف یہ اعتراض کیا گیا کہ انھوں نے امت کے اندر ایک فرقہ بنا کراختلاف پیدا کر دیا ہے، اس کے جواب میں مرزائیوں نے کہا کہ اگر ہمارے کسی عمل سے امت میں اختلاف پیدا ہو گیاہے تو امت کو اس کے لئے ہمارا شکرگزار ہونا چاہئے نہ کہ شکوہ سنج



صرف حافظ جلال الدین سیوطیؒ متوفی ۹۱۱ ؁ھ کی ایک کتاب ’جامع صغیر‘ ہے جس میں یہ حدیث ملتی ہے۔ لیکن عقل سلیم اسے ماننے سے قاصر ہے۔ کیونکہ علامہ سیوطی کی مختصر سی کتاب میں جہاں یہ حدیث درج ہے اور انہی کی ضخیم کتاب ’جمع الجوامع‘ میں یہ حدیث موجود نہیں جس میں حتی الوسع ساری حدیثیں جمع ہیں۔ اگر واقعی یہ حدیث ان کے نزدیک حدیث رسولؐ ہوتی تو اپنی ضخیم کتاب ’جمع الجوامع‘ میں کیا جمع نہیں کرتے؟

مختصر یہ کہ اختلاف اصحابی لکم رحمۃ والی حدیث جو جوئیربن سعدالکوفی کی من گھڑت ہے اور اختلاف امتی رحمۃ اس جوئیربن سعدالکوفی والی حدیث پر قیاس کر کے بعد والوں نے ایک قول بنا لیا اور حدیث کہہ کر اسے مشہور کر دیا۔ کوئی اصل نہ اسکی ہے نہ اسکی ،یہ دونوں سراسر گمراہ کن اور نصّ قرآنی کے خلاف ہیں۔ درج بالا مضمون سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث جامع صغیر میں درج نہیں بلکہ داخل کردی گئی ہے۔ اسی لئے علامہ سخاوی متوفی ۹۰۲ ؁ھ نے افواہی حدیث قرار دے کر اور اس کی سند بے سند کہکر اپنی کتاب میں جمع کیا اور پھر سیوطیؒ متوفی۹۱۱ ؁ھ نے اس کو اپنی جامع صغیر میں حدیث رسولؐ ہی کی حیثیت سے داخل کر دیا یا کسی دوسرے نے اسے جامع صغیر میں ٹھونس دیا۔