Qatar_West_BayCurrent Affairs Featured Urdu Articles 

عالم عرب کا ملیّ انحطاط

مطلق العنان فرماں روا اور روشن خیال متبحر علماء کا فقدان مغرب کی سامراجی طاقتوں کو شمشیر شقاوت کی دعوت دینے پر آمادہ بر سر پیکار ہیں۔سرسبز کھیتیاں جو لہلہا رہی ہیں دست جہالت کے ہتھوں چڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ قہر و غضب کا بادل سروں پر منڈلا رہا ہے اور ہم اس سے غافل ہیں کہ صاحب مقصد کا عزم مقصد کو معدوم کرنے جا رہا ہے۔ صفحہ روزگار حرف حق کو ضبط کرنے جا رہا ہے۔ بے ثمر اور سخت درخت کب اکھاڑے جائینگے جس کے سائے میں ہر قسم کے زہریلے سانپ اور خونخوار درندے جمع ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے انسانیت ایک کونے میں دبکی جا رہی ہے۔

کہاں گئے ملت اسلامیہ اور ممالک اسلامیہ کو درپیش خطرات اور فرنگی اقوام کے جارہانہ مقاصد سے آگاہ کرنے والے اقتدار وقت کے سپہ سالار، اتحاد اسلامی و اخوت مسلمانی کو زندہ کرنے والے اور فروغ دین و ملت کو ایک ناقابل تسخیر عالم گیر قوت بخشنے والے آج خود افتراق و انتشار میں مبتلا ہو گئے ہیں اور اپنی عوام کو انتہائی نازک حالات اور اہم مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور کر چکے ہیں۔

زبان شارعؑ نے امت مسلمہ کو مقام رسالت کی وراثت سے مشرف فرمایا ہے۔ حق وراثت کا مطالبہ ہے کہ رابطہ دینی کو زندہ کریں۔ اپنے قلوب کو اتحاد و رفاقت کی پیمان گاہ بنا لیں یہاں تک کہ آپ کا دل روح وحدت کا مہبط بن جائے۔



کیا ممالک اسلامیہ مسلمانوں کی زبوں حالی اور انحطاط کے ذمہ دار نہیں! اگر ہیں تو اصلاح و ترقی کیلئے عملی جدوجہد کریں اور اتحاد و اخوت کے استحکام کے لئے موثر عملی قدم اٹھائیں۔ کیونکہ قطر اور سعودیہ کا باہمی اتحاد جو خاص طور پر پیش نظر ہے یہ دونوں قومیں ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں اور دینی بھائی چارگی میں پروئے ہوئے ہیں جس سے ان کے تعلقات اور بھی مستحکم ہیں۔فی الحال ان کے مابین معمولی نوعیت کے اختلافات ہیں ایسا بھی نہیں کہ دینی اتحاد کی ریشمی خلوت کو پارہ پارہ کر دیں۔ آئیے اسلامی دنیا کو ایک تازہ قوت عطا کریں، جمود کو توڑیں، خواب غفلت سے بیدار ہوں، کھوئی ہوئی عظمت و قوت کو بحال کریں۔ مسلمان ہیں اور دین اسلام کے شیدائی ہیں، دین و ملت کی شاندار روایات کو پیش نظر رکھتے ہوئے موجودہ دور کے ملی تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے متحد ہونے کو فوقیت دیں اور اتحاد اسلامی کو فروغ دیں تاکہ بایں صورت مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت و قوت اور شوکت کو پھر حاصل کر سکیں اور اپنے او العزم اجداد کی یادگار اور عظیم المرتبت جواں مردوں کے جانشین بن سکیں۔

مزید پڑھیں: اجتہاد ایک فریضہ ہے۔ ہدایت اسی پر موقوف ہے۔

ائے امت کے دانش مندوں! تمہارے یہ بھائی تمہاری زندگی ہیں اسے بچاؤ، یہ تمھارا خون ہے اسے ہرگز نہ بہنے دو،  یہ تمہاری روح ہے اسے زیر نہ ہونے دو،  یہ تمہاری سعادت ہے ا سے کسی قیمت پر نہ بیچو۔ باطل کی سجاوٹوں سے مرعوب نہ ہو، عقل کی آنکھ پر پٹی اگر بندھی ہے اسے ہٹاؤ، سیسہ پلائی دیوار بن جاؤ، دین کا دامن تھام لو۔ یہ رشتہ ایسا مضبوط ہے کہ ترک عرب کے ساتھ، مصری مغربی کے ساتھ اکٹھا ہو سکتا ہے۔ ہماری عزت، ہمارا دبدبہ ، ہمارا اقتدار ، ہماری سیادت کو کمزور نہ ہونے دو، عالم گیر وحدت اسلامی میں ڈھل جاؤ، خود غرضی، شک و شبہات سے نکل کر باہمی اتحاد و اتفاق اور ایک دوسرے کا احترام ملحوظ خاطر رکھو۔

ائے امت کے جیالوں! مسلمانوں میں جو لوگ فکرو نظر کے لحاظ سے بلند ہیں جب یہ دیکھتے ہیں کہ افکار کی پراگندگی اور اغراض کے انتشار کی وجہ سے ملت پر کیا افتاد پڑی ہے تو وہ ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں اور شدت غم سے ان کے آنسو رواں ہو جاتے ہیں۔ اگر اقتدار کیلئے باہمی کشمکش میں مبتلا رہنے والے ہوس کار امراء کی گمراہیوں کا وجود نہ ہوتا تو مشرق کا مسلمان مغرب کے مسلمان سے اور شمال کا مسلمان جنوب کے مسلمان سے ایسا مربوط ہوتا کہ سب کے سب ایک آواز پر لبیک کہتے۔

زبان شارعؑ نے امت مسلمہ کو مقام رسالت کی وراثت سے مشرف فرمایا ہے۔ حق وراثت کا مطالبہ ہے کہ رابطہ دینی کو زندہ کریں۔ اپنے قلوب کو اتحاد و رفاقت کی پیمان گاہ بنا لیں یہاں تک کہ آپ کا دل روح وحدت کا مہبط بن جائے۔

 دین اسلام کا جاں نثار اپنے اعتقاد میں جس قدر راسخ ہوتا ہے اسی قدر وہ قوم، قبیلہ اور نسل کے بندھنوں سے فارغ ہوتا ہے۔ جب کبھی کسی مسلم سلطنت پر فرنگیوں کا قبضہ ہوا تو اس قدر ملال ہوتا ہے گویا یہ سانحہ خود ان ہی پر گزرا ہے۔

یورپی کلچر نے اسلامی ممالک کو اپنے استعماری پنجے میں اس طرح جکڑ لیا ہے کہ مملکت اسلامی ان کے ظلم و استبداد کا نشانہ بنتے جا رہے ہیں اور یہ زبوں حالی ملّی وحدت کے مستحکم رشتے کو توڑنے کا نتیجہ ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ملوک و سلاطین کے درمیان صرف عقیدے کے سوا کوئی جامع امر باقی نہ رہا۔ مسلمانوں کا ایک ملک دوسرے ملک سے اور ایک شہر دوسرے شہر سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا، صرف یہ احساس باقی رہ گیا ہے کہ بعض قومیں ہماری ہم کیش و ہم عقیدہ ہیں۔

جبکہ دین اسلام کا جاں نثار اپنے اعتقاد میں جس قدر راسخ ہوتا ہے اسی قدر وہ قوم، قبیلہ اور نسل کے بندھنوں سے فارغ ہوتا ہے۔ جب کبھی کسی مسلم سلطنت پر فرنگیوں کا قبضہ ہوا تو اس قدر ملال ہوتا ہے گویا یہ سانحہ خود ان ہی پر گزرا ہے۔

مزید پڑھیں: اختلاف امتی رحمۃ کی حقیقت

ائے امت مسلمہ کے اقتدار وقت کے ذمہ داروں! ان اجنبیوں کے دست نگر نہ ہو! اور محبت رسول کا ان کے ہاتھوں سودا نہ کرو۔ اپنی فضول خرچی اور عیش پسندی کو لگام دو تاکہ تمہاری معیشت اور آزادی سلامت رہے اور تم آنے والے خطرات سے محفوظ رہو۔ آنے والے ایام میں ظالم اور مظلوم دونوں سے رقابت رکھو کیونکہ ظالم ظلم کرتا ہے اور مظلوم ظلم برداشت کرتا ہے جس سے ظالم کو ظلم کرنے کی جسارت ہوتی ہے۔ اپنی دانشمندی سے احکام سنت پر عامل رہو اور ہر شخص کو اس کے جائز دائرہ عمل میں محدود رکھو۔ اللہ کے قانون کی متابعت کا خیال رکھو۔



اہل یورپ کی سامراجی طاقتوں کے ذریعے مسلم قوموں کی چیرہ دستی اور دسیسہ کاری سے عرب ممالک اپنی آزادی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اہل عرب پر ظلم کی انتہا ہو چکی ہے۔ دست درازی کی حد ہو گئی ہے بلکہ بیشتر حصہ اپنی بدترین حالت کو پہنچ گیا ہے۔ ان کے اقتدار وقت اپنے تختوں سے اتارے جا رہے ہیں، امراء کو زبردستی ان کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے، عزت دار ذلیل و خوار ہو رہے ہیں، ذی قدر حقیر اور دولتمند فقیر بنائے جا رہے ہیں، شیر شترمرغ بنتے جا رہے ہیں۔ قوم کا کوئی طبقہ ایسا باقی نہیں رہ گیا جو ان کے دست تعدی سے آفات میں مبتلا نہ ہوا ہو۔ یہ تمام اشکالات مغرب کی اندھی تقلید کا نتیجہ اور ان کی دراندازی کا بے جا استعمال ہے۔ اور یہ صرف اہل مغرب کی عظمت کا سکہ دلوں پر بیٹھنے کا انجام ہے جو ہماری بدبختی کا موجب اور عالی ہمتی کا نشان دل سے مٹ جانے کی علامت بن چکی ہے جو کہ ہماری غیرت کی آگ ٹھنڈی پڑ جانے کے مترادف ہے۔ جس سے حملہ آوروں کیلئے راستہ صاف اور ان کے در آنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے جو ان کے پیر جما دینے کیلئے کافی ہے۔

اس وقت قطر پر جو خطرہ لاحق ہوا ہے اس نے مسلمانان عالم کی اندرونی آگ کو بھڑکا دیا ہے اور ان کے دلوں کا اضطراب بڑھتا جا رہا ہے، جب تک یہ زخم تازہ رہے گا عالم اسلام کی بے چینیاں زائل نہ ہو سکیں گی کیونکہ ہمارا دینی تعلق ، قومی اور لسانی تعلق سے زیادہ قوی ہے۔ قطر پر نازل ہونے والی آفت نے چھپے ہوئے احساسات کو متحرک کر دیا ہے اور ایسے غموں میں مبتلا کر دیا ہے جن کا خیال بھی نہ تھا۔ ماضی کی یاد اور مستقبل کے انتظار نے لمبی سانسیں لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ عجب نہیں کہ یہ سانسیں آہوں میں بدل جائیں اور آہوں سے بڑھ کر چیخوں تک کی نوبت پہنچ جائے جو ان لوگوں کے کانوں کے پردے پھاڑ دے جن کو ہوس اقتدار نے بہرا بنا دیا ہے۔